والدہ، شوہر، دو بیٹیوں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0525
سوال

عظمیٰ بلال کی وفات جنوری 2024 میں ہوئی۔ اس کے ورثاء میں اس کی والدہ، شوہر، دو بیٹیاں ہیں۔ اس کی وراثت کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ کیا اس کی وراثت میں چچا زاد بھائیوں کا بھی کوئی حصہ ہوگا؟

جواب

​مرحومہ کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ — یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحومہ کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے — کی ادائیگی کے بعد، باقی ماندہ ترکہ 13 حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے شوہر کو تین حصے (%23.08)، والدہ کو دو حصے (%15.38)،جبکہ دو بیٹیوں میں ہر ایک کو چار حصے (%30.77) از روئے شرع ملیں گے۔ جب کہ چچا زاد بھائی وراثت سے محروم ہوں گے۔
واللہ اعلم بالصواب​

مقام
حسن ابدال
تاریخ اور وقت
اگست 27, 2026 @ 09:37صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں