عبادات بدنیہ میں نیابت درست نہیں

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0530
سوال

کیا فوت شُدگان کی طرف سے قضاء نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں اوراس کو ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ نیز فوت شُدگان کی طرف سے قضاء روزے بھی رکھے جاسکتے ہیں؟

جواب

نماز اور روزہ عباداتِ بدنیہ میں سے ہیں، اور عباداتِ بدنیہ کی ادائیگی میں کسی دوسرے شخص کی نیابت (بدل بن کر ادائیگی) درست نہیں ہوتی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فوت شدگان کی طرف سے قضا نمازیں اور روزے کوئی دوسرا شخص ادا نہیں کر سکتا۔
البتہ، مرحوم کی چھوٹی ہوئی نمازوں اور روزوں کے شرعی مالی فدیہ کا حکم درج ذیل ہے:
اگر مرحوم نے اپنی قضا نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینے کی وصیت کی ہو، تو ورثاء کے لیے مرحوم کے تجہیز و تکفین اور قرض کی ادائیگی کے بعد بچے ہوئے مال میں سے ایک تہائی (1/3) کی حد تک فدیہ دینا واجب ہے۔
اگر مرحوم نے وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر فدیہ دینا شرعاً واجب نہیں رہتا، تاہم اگر تمام بالغ ورثاء اپنے حصے کے مال سے اپنی خوشی اور تبرع (احسان) کے طور پر فدیہ ادا کر دیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ مرحوم کو مؤاخذہ سے معاف فرما دے گا۔
فدیہ کی مقدار اور حساب:
 ایک روزے کا فدیہ: ایک مسکین کو نصف صاع گندم یا اس کی قیمت دینا ہے (نصف صاع تقریباً 1.633 کلوگرام گندم یا اس کے برابر کی رقم ہوتی ہے)۔
نماز کا فدیہ: ہر ایک فرض نماز اور وتر کا فدیہ وہی ہے جو ایک روزے کا ہے (یعنی تقریباً 1.633 کلوگرام گندم یا اس کے برابر قیمت)۔ ایک دن کی وتر سمیت کل 6 نمازیں بنتی ہیں، لہٰذا ایک دن کی تمام قضا نمازوں کا فدیہ 6 روزوں کے فدیے کے برابر ہو گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​

مقام
Dina
تاریخ اور وقت
اگست 26, 2026 @ 10:38صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں