غسل جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جانے کی صورت میں غسل کا حکم

زمره
طہارت و پاکیزگی
فتوی نمبر
0521
سوال

ایک شخص نے غسل جنابت کیا لیکن کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا اس کے بعد جب اس کو یاد آیا تو پھر اس نے کلی کرلی اور ناک میں پانی بھی ڈال لیا تو کیا اس طرح اس کا غسل ہوگیا؟

جواب

کلی اور ناک میں پانی ڈالنا غسل کے مستقل فرائض ہیں ، اگر یہ فرائض رہ گئے تو غسل نامکمل رہا، تاہم بعد میں یاد آنے پر صرف ان فرائض کا مکمل کر لینا کافی ہے، اس صورت میں غسل مکمل ہو جائے گا۔ دوبارہ پورا غسل کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ غسل میں تسلسل (موالات) شرط نہیں — بشرطیکہ اس دوران کوئی ایسی نئی چیز پیش نہ آئی ہو جو دوبارہ غسل واجب کر دے (جیسے دوبارہ جماع، احتلام، یا حیض) کیونکہ ایسی صورت میں مکمل غسل فرض ہو جائے گا۔
البتہ جتنی دیر غسل نامکمل رہا، اس دوران شخص شرعاً حالتِ جنابت میں ہی شمار ہوگا لہٰذا اس دوران پڑھی گئی نمازیں ادا شمار نہیں ہوں گی اور ان کی قضا لازم ہوگی۔​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اگست 26, 2026 @ 07:52شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں