شوہر، چار بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0520
سوال

میری بیوی کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کی ملکیت میں سونا موجود ہے۔ اس میں کچھ سونا بیٹوں نے اپنی والدہ کو تحفے میں دیا تھا، کچھ میں نے خرید کردیا تھا، اور کچھ سونا شادی کے وقت کا تھا۔ یہ تمام سونا مرحومہ نے بطور ترکہ چھوڑا ہے۔ مرحومہ کے ورثاء میں شوہر، چار بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ سونے کو ورثاء کے درمیان از روئے شرع کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟​

جواب

​صورت مسئولہ میں مرحومہ کے ورثا میں شوہر، چار بیٹے اور ایک بیٹی کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے اور اس نے اپنے ترکہ میں صرف سونا ہی چھوڑا ہے تو مرحومہ کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ — یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحومہ کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے — کی ادائیگی کے بعد، باقی ماندہ ترکہ بارہ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے شوہر کو تین حصے (%25)، چار بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو حصے (%16.67)، جبکہ بیٹی کو ایک حصہ (%8.33) از روئے شرع ملے گا۔

مقام
ملتان
تاریخ اور وقت
اگست 26, 2026 @ 02:53شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں