بیوہ، ماں، بھائی، تین بیٹوں اور تین بیٹیوں میں تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0519
سوال

ارمان کی وفات 2020 میں ہوئی۔ اِس وقت اس کی ماں، ایک بھائی، پہلی بیوی (طلاق یافتہ) سے دو بیٹیاں حیات ہیں جب کہ دوسری بیوی اور اس سے ہونے والے تین بیٹے اور ایک بیٹی ارمان کے فوت ہونے کے بعد فوت ہوگئے۔
ارمان کی دوسری بیوی کی وفات (6 اپریل 2026) کے بعد ارمان کا بینک بیلنس نکلوا لیا گیا ہے، جو 105,000 روپے ہے اور اس کے گھر کا سامان فروخت کیا گیا جس کی قیمت 144,440 روپے وصول ہوئے ہیں۔ اور لوگوں سے 50 سے 60 لاکھ کے قریب ادھار جو ارمان نے لوگوں کو دیا ہوا تھا، وصول کرنا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ارمان کی وراثت ان کے شرعی ورثاء میں کس تناسب سے تقسیم ہوگی؟​

جواب

صورتِ مسئولہ میں معاملے کو تین حیثیتوں سے سمجھنا ضروری ہے: اولاً ترکہ کی صحیح مالیت کا تعین، ثانیاً ارمان کے انتقال کے وقت حیات ورثاء کے درمیان اصل تقسیم، اور ثالثاً بعد میں وفات پانے والے ورثاء کے حصص کا مسئلہ تناسخ کے اصول پر آگے منتقل ہونا۔ تفصیل حسبِ ذیل ہے:

اول: ترکہ کی مالیت کا تعین:
شرعاً معتبر و واجب التقسیم ترکہ وہی ہے جو مورث (ارمان) کی وفات (2020) کے وقت اس کی ملکیت میں موجود تھا، نہ کہ وہ رقم جو چھ سال بعد (2026 میں) نکلوائی یا وصول کی گئی۔ لہٰذا:
• اگر بینک اکاؤنٹ میں 2020 سے 2026 تک نہ کوئی رقم جمع کروائی گئی نہ نکالی گئی (سوائے بینک کے سودی منافع کے)، تو موجودہ 105,000 روپے ہی اصل ترکہ شمار ہوں گے، البتہ اگر اس میں سودی منافع شامل ہوچکا ہو تو وہ اضافی رقم بلانیتِ ثواب غرباء پر صدقہ کی جائے گی اور صرف اصل زر تقسیم کے قابل ترکہ ہوگا۔
• اگر درمیانی عرصے میں دوسری بیوی (جو اکاؤنٹ تک رسائی رکھتی تھیں) نے کوئی رقم نکالی یا جمع کروائی ہو، تو اس کی نوعیت کی تحقیق درکار ہے: ناجائز تصرف کی صورت میں وہ رقم واپس ترکہ میں شامل کی جائے گی، اور اگر وہ رقم دوسری بیوی کی اپنی ذاتی تھی تو وہ ترکہ سے خارج ہوگی۔
• یہی اصول گھریلو سامان پر بھی لاگو ہوگا: 2020 میں وفات کے وقت جو سامان اور جتنی مالیت کا تھا وہی معتبر ہے، نہ کہ چھ سال بعد فروخت پر ملنے والی رقم (144,440 روپے)، الاّ یہ کہ ثابت ہو کہ سامان میں اضافہ/کمی نہیں ہوئی۔
• لوگوں سے وصول طلب قرض (تخمیناً 50-60 لاکھ روپے) بہرحال ترکہ ہی کا حصہ ہے، بشرطیکہ یہ ثابت ہو کہ یہ قرض ارمان نے اپنی زندگی میں دیا تھا۔
اس تحقیق کے بعد جو حتمی رقم بطور ترکہ متعین ہو، وہی ذیل میں بیان کردہ تناسب کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔ اگر مذکورہ بالا امور میں سے کسی میں تبدیلی ثابت نہ ہو (یعنی 2020 اور 2026 کی رقوم یکساں ہوں)، تو نیچے دی گئی تقسیم من و عن لاگو ہوگی۔

دوم: ارمان کے انتقال (2020) کے وقت اصل تقسیم:
مرحوم کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ — یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحوم کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے — کی ادائیگی کے بعد، باقی ماندہ ترکہ ان ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا جو ارمان کے انتقال کے وقت حیات تھے: ماں، دوسری بیوی، تین بیٹے، اور تین بیٹیاں (دو پہلی بیوی سے، ایک دوسری بیوی سے)۔ بھائی، بیٹوں کی موجودگی کے سبب عصبہ نہ رہنے کی وجہ سے محروم ہوگا — اور یہ محرومیت ارمان کی وفات کے وقت ہی حتمی طور پر طے ہوچکی، بعد کی اموات سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، کیونکہ استحقاقِ وراثت کا مدار مورث کی وفات کے وقت کی صورتحال پر ہوتا ہے۔
مرحوم کے ترکہ کے کل 216 حصے کیے جائیں گے، جن میں مرحوم کی بیوہ کو 27 حصے (%12.5)، ماں کو 36 حصے (%16.67)، تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو 34 حصے (%15.74) اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 17 حصے (%7.87) از روئے شرع ملیں گے، جبکہ مرحوم کا بھائی ترکہ سے محروم ہوگا۔

سوم: مسئلہ تناسخ — بعد میں فوت ہونے والے ورثاء کے حصص
چونکہ دوسری بیوی اور اس کے تینوں بیٹے اور بیٹی، ارمان کے انتقال کے بعد مگر ترکہ کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگئے، لہٰذا یہ خالص "مسئلہ تناسخ" بن گیا ہے۔ اس کا اصول یہ ہے کہ جو حصہ (مذکورہ بالا 27، اور 34×3، اور 17 حصے) ان چاروں کو ارمان کے ترکہ میں سے ملنا طے ہوچکا تھا، وہ ان کی اپنی ذاتی ملکیت شمار ہوکر، ان کی اپنی وفات پر ان کے اپنے شرعی ورثاء میں منتقل ہوگا — نہ کہ واپس ارمان کے باقی حیات ورثاء (ماں، بیٹیوں) میں۔
اس کی حتمی اور قطعی تکمیل کے لیے درج ذیل معلومات ناگزیر ہیں، جن کے بغیر آگے کی تقسیم نہیں کی جاسکتی:
1. دوسری بیوی، تینوں بیٹوں اور بیٹی کی وفات کی صحیح تاریخ و ترتیب (کہ کون پہلے فوت ہوا اور اس وقت کون کون حیات تھا)، کیونکہ ہر وفات پر اس وقت زندہ ورثاء ہی وارث بنیں گے۔
2. کیا ان میں سے کسی کی اپنی اولاد یا شریکِ حیات تھی (مثلاً بیٹوں کی اپنی بیویاں/بچے، بیٹی کا شوہر/بچے)؟
3. کیا دوسری بیوی کے اپنے والدین حیات ہیں؟

جب تک یہ تفصیلات فراہم نہ ہوں، ہر مرحلے کا علیحدہ "مسئلہ" بناکر حصص نکالنا ممکن نہیں۔ لہٰذا سائل سے استدعا ہے کہ یہ تفصیلات فراہم فرمائیں تاکہ ان چاروں مرحومین کے حصص کی حتمی اور قطعی تقسیم بھی طے کی جاسکے۔

الغرض:
• ماں اور تین بیٹیوں (پہلی بیوی سے دو، دوسری بیوی سے ایک) کو ان کا مذکورہ بالا حصہ (بالترتیب 36 اور 17-17 حصے) حتمی اور قطعی طور پر ملے گا، بشرطیکہ ترکہ کی مالیت میں اوپر بیان کردہ تبدیلی ثابت نہ ہو۔
• بھائی مکمل طور پر محروم رہے گا۔
• بیوہ، تین بیٹوں اور ایک بیٹی کا حصہ (27 + 34×3 + 17 = 146 حصے) ان کی اپنی وفات پر ان کے اپنے ورثاء میں مسئلہ تناسخ کے اصول کے تحت منتقل ہوگا، جس کی تفصیل مطلوبہ اضافی معلومات کی فراہمی کے بعد ہی طے کی جاسکتی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

مقام
جھنگ
تاریخ اور وقت
اگست 23, 2026 @ 03:28شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں