زمره
فتوی نمبر
سوال
جب فجر کے وقت جماعت کھڑی ہو تو اس وقت سنتیں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
باجماعت فرض نماز شروع ہوجانے کے بعد نفل یا سنتِ مؤکدہ میں مشغول ہونا مکروہ ہے، البتہ سنتِ فجر اس سے مستثنیٰ ہے۔ اگر اقامت ہوچکی ہو اور غالب گمان ہو کہ سنتِ فجر ادا کرنے کے بعد کم از کم قعدہ میں امام کے ساتھ شرکت ہوجائے گی تو سنتیں ادا کی جاسکتی ہیں، ورنہ انہیں ترک کرکے فوراً جماعت میں شامل ہونا لازم ہے۔
سنتِ فجر کی ادائیگی صف سے الگ، کسی ستون کی آڑ میں یا مسجد کے آخری حصے میں کی جائے۔ صف میں شامل ہوکر جماعت کے مخالف سنت پڑھنا یا بغیر آڑ کے صف کے پیچھے نماز ادا کرنا مکروہ ہے، پہلی صورت زیادہ سخت ہے۔
اس کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، حضرت عمر ؓ، حضرت ابودرداء ؓ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے آثار سے ہوتی ہے (جنہیں امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں نقل کیا ہے۔ (375،376/1، احادیث: 2201، 2207)
لہٰذا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو صف سے الگ سنتِ فجر ادا کرکے جماعت میں شامل ہوجائے، اور فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو سنتیں ترک کرکے فوراً جماعت میں شریک ہوجائے۔
واللہ أعلم بالصواب
