سپاٹ ٹریڈنگ اور ڈراپ شپنگ کا حکم

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0516
سوال

میرا سوال سپاٹ ٹریڈنگ (Spot Trading) اور ڈراپ شپنگ(Drop Shipping) کے متعلق ہے۔ سپاٹ ٹریڈنگ یہ ہے کہ میں نے آن لائن ایک سٹور بنایا ہے، اس پر میرے پاس وہ چیزیں موجود نہیں ہیں، جن کے متعلق میں نے لکھا ہوا ہے کہ ’’آپ مجھ سے یہ خرید سکتے ہیں‘‘۔ جیسے ہی مجھے کوئی اس کا آرڈر دیتا ہے تو میں کسی ہول سیلر سے خرید کر آرڈر دینے والے کو فروخت کردیتا ہوں۔ ڈراپ شپنگ(Drop Shipping) یہ ہے کہ میں نے ایک آن لائن سٹور بنایا ہے اور ان چیزوں کی تصویریں ڈالی ہیں، جو میرے پاس موجود نہیں ہیں۔ ایک اَور سٹور پر آن لائن وہ چیزیں سستے ریٹ پر دستیاب ہیں۔ اور میں نے اپنے سٹور پر اپنے منافع کے لیے ان کی قیمت زیادہ لکھی ہوئی ہے۔ جیسے ہی یہ چیزیں خریدنے کے لیے مجھے کوئی آرڈر کرتا ہے تو میں اُسی سستے سٹور والے کو کہتا ہوں کہ اس بندے کو یہ چیز بھیج دیں، جس کے پیسے میں اس سٹور والے کو کم اور اپنے پاس اپنے ریٹ کے مطابق لے لیتا ہوں۔ کیا کاروبار کی یہ دونوں شکلیں جائز ہیں؟

جواب

سپاٹ ٹریڈنگ (Spot Trading) کی صورت میں جو چیزیں آپ کے سٹور میں نہیں ہیں، ان کے بارے میں یہ مت لکھیں کہ یہ اشیا ہمارے سٹور میں موجود ہیں۔ یہ غلط بیانی ہوگی۔ یا یوں لکھیں کہ: ’’فلاں فلاں اشیا ہم بیچتے ہیں‘‘۔ اس صورت میں اوّل: قیمت پہلے ہی طے کرکے وصول کریں، دوسرا: اس چیز کی نوعیت، معیار اور وقت و مقامِ ادائیگی طے کریں۔ یہ شرعاً ’’بیع سَلَم‘‘ کہلاتی ہے۔

ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) کی صورت میں بھی جو چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں، ان کی تصویریں اشتہار میں مت دیں۔ یہ بات خلافِ واقعہ ہوگی۔ آپ یہ لکھیں کہ: ’’یہ چیزیں ہم گاہک کو مہیا کرسکتے ہیں‘‘۔ آپ اپنی خدمت کا معاوضہ تب لے سکتے ہیں جب پہلے خود خرید کر اپنے قبضے میں لائیں، پھر اپنی مناسب نفع پر مبنی قیمت کے ساتھ بیچیں۔

مقام
مانسہرہ
تاریخ اور وقت
اگست 16, 2026 @ 10:38صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں