عقدِ اجارہ صحیح ہونے کی شرائط

زمره
اجارہ و ہبہ
فتوی نمبر
0502
سوال

محترم مفتی صاحب! مجھے ایک آن لائن کاروبار میں بطور کمیشن ایجنٹ کام کرنے کی شرعی حیثیت معلوم کرنی ہے، جس کا مکمل طریقہ کار درج ذیل ہے:
معاہدہ اور فیس:
ایک کمپنی ہے جس کا نام "شعیب سیلفی" ہے۔ وہ 15,000 روپے فیس لیتے ہیں جس میں وہ ہمیں کورسز کراتے ہیں اور کلاسز بھی دیتے ہیں اور ہمیں سیکھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیس دینے کے بعد ہم ان کے ساتھ کاروبار میں شریک اور ان کے وکیل بن جائیں گے۔ اگر کسی کے پاس 15,000 روپے ایک ساتھ نہیں ہیں، تو کمپنی کہتی ہے کہ جب آرڈر آئے گا تو فیس کی باقی رقم آرڈر کے پیسوں سے کٹ جائے گی۔
کاروبار کا طریقہ کار:
1. اشتہار:ہم Instagram وغیرہ پر ایک اکاؤنٹ بناتے ہیں۔ کمپنی ہمیں مختلف چیزوں (جیسے کپڑے، جوتے، بیگ اور اس طرح کی دوسری چیزوں) کی ویڈیو بناکر دیتی ہے جو ہم وہاں اپ لوڈ کرتے ہیں۔
2. گاہک کا آرڈر: جب کوئی گاہک ہماری ویڈیو دیکھ کر چیز کا ریٹ پوچھتا ہے، تو ہم پہلے کمپنی سے اس چیز کی اصل قیمت پوچھتے ہیں۔
3. منافع کا طے ہونا: مثال کے طور پر اگر چیز کی قیمت 20 ڈالر ہے تو ہم کمپنی سے اجازت لے کر گاہک کو 25 ڈالر بتاتے ہیں۔ گاہک راضی ہو جائے تو 5 ڈالر ہمارا منافع ہوتا ہے اور 20 ڈالر کمپنی کا۔
4. پیسوں کا لین دین: ہم گاہک کو کمپنی کا اکاؤنٹ نمبر دیتے ہیں۔ گاہک پورے 25 ڈالر براہِ راست کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کراتا ہے۔ پیسے ملنے کے بعد کمپنی 5 ڈالر منافع ہمارے اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہے اور 20 ڈالر خود رکھ لیتی ہے۔
5. ڈیلیوری: پیسے ملنے کے بعد کمپنی خود براہِ راست گاہک کو پارسل بھیج دیتی ہے۔ مال ہمارے قبضے میں کبھی نہیں آتا۔
واپسی کی پالیسی:
چیز اگر راستے میں کسی وجہ سے خراب ہو جائے یا پہنچ کر اسی شخص کو پسند نہ آیا تو کمپنی کو واپس کرکے ٹوٹل روپے واپس وصول کرسکتے ہیں۔

جواب

​صورتِ مسئولہ میں مذکور معاملہ کمیشن ایجنٹ کا ہے جو شرعاً عقد اجارہ یعنی وکالت بالاجرت کے تحت آتا ہے اس کے جواز کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
1- کمیشن متعین ہو
​ایجنٹ کی اجرت پہلے سے واضح اور متعین ہو خواہ مجموعی فروخت کا مقررہ فیصد ہو یا فی پروڈکٹ متعین رقم ہو اجرت میں جہالت ہو تو عقد فاسد ہوگا۔
2- ایجنٹ کی حیثیت واضح ہو
​ایجنٹ خود کو مال کا مالک ظاہر نہ کرے بلکہ اس کی حیثیت بطور وکیل یا ایجنٹ واضح ہو۔
3- دھوکے اور غرر سے پاک ہو
​مال کی قیمت معیار ڈیلیوری اور واپسی کی شرائط واضح ہوں اور گاہک سے کسی قسم کی دھوکا دہی نہ کی جائے۔
4- پندرہ ہزار روپے فیس کا حقیقی عوض ہو
​اگر یہ فیس حقیقی تربیت یا کورس کے عوض ہے تو اصولاً جائز ہے لیکن اگر فیس کا مقصد محض نئے افراد کو شامل کرنا ہو تو معاملہ ناجائز پیرامڈ اسکیم کے مشابہ ہو سکتا ہے۔
5- کمیشن کی بنیاد حقیقی فروخت ہو
​کمیشن حقیقی مصنوعات کی فروخت کے عوض ہو صرف نئے افراد کو شامل کرنے پر کمیشن ملنا شرعاً درست نہیں۔
6- کاروبار جائز اشیا کا ہو
​مثلاً کپڑے جوتے وغیرہ حرام اشیا کی خرید و فروخت پر کمیشن لینا جائز نہیں۔
لہٰذا اگر مذکورہ شرائط پوری ہوں اور اصل کاروبار حقیقی خرید و فروخت پر مبنی ہو تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہوگا بصورت دیگر ناجائز ہوگا۔​

مقام
اسلام آباد
تاریخ اور وقت
اگست 16, 2026 @ 07:57صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں