نمازِ جمعہ و عیدین میں سجدہ سہو کا حکم

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0499
سوال

اگر نمازِ جمعہ یا نمازِ عیدین میں امام قراءت بلند آواز سے کرنے کے بجائے بھول کر آہستہ آواز سے قراءت کر لے، تو کیا نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین درست ہو جائیں گی؟ نیز ایسی صورت میں سجدۂ سہو کافی ہوگا یا نہیں؟

جواب

​نمازِ جمعہ و عیدین میں امام کے لیے جہراً (بلند آواز سے) قراءت کرنا واجب ہے۔ لہذا اگر امام نے بقدرِ تین مختصر آیات یا ایک طویل آیت، یا اس سے زائد مقدار میں قراءت سراً (آہستہ آواز میں) کی تو سجدہ سہو کے لیے حکم یہ ہے کہ:
​(1) اگر نماز جمعہ شہر کی جامع مسجد اور عیدین عیدگاہ میں پڑھائی جائیں، تو چوں کہ عموماً وہاں بڑا اجتماع ہوتا ہے، اس لیے سجدہ سہو نہ کیا جائے تاکہ لوگ کسی غلط فہمی اور تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔
​(2) اگر نماز جمعہ و عیدین چھوٹی مساجد میں ادا کی جائیں، جہاں جماعت مختصر ہو کہ بغیر کسی الجھن کے تمام لوگوں کو سجدہ سہو کا علم ہوجائے گا تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا بہتر ہے۔
​اسی طرح کے ایک مسئلے کے سلسلے میں مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں:
”جماعت زیادہ بڑی نہ ہو اور کسی گڑ بڑ کا خوف نہ ہو تو جمعہ و عیدین میں بھی سجدہ سہو کرلیا جائے۔ البتہ کثرت جماعت کی وجہ سے گڑ بڑ کا خوف ہو تو سجدہ سہو ترک کردینا مباح ہے۔“(1)


(1) کفایت المفتی، (ملتان، مکتبہ امدادیہ)، کتاب الصلاۃ، چھٹا باب نمازِ عیدین، 252/3

مقام
فیصل آباد
تاریخ اور وقت
اگست 13, 2026 @ 10:58صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں