صحابی کی دجال سے ملاقات کا واقعہ

زمره
حدیث و سنت
فتوی نمبر
0512
سوال

​ہم بچپن سنتے آئے ہیں کہ ایک صحابی نے دجال سے ملاقات کی تھی۔ کیا یہ واقعہ درست ہے؟

جواب

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ کا دجال سے ملاقات کا واقعہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے، جس کی رسول اقدس ﷺ نے خود تصدیق فرمائی ہے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے:
​حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ ، شَعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ فَقَالَ: حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم لَا تُسْنِدِيهِ إِلَى أَحَدٍ غَيْرِهِ. فَقَالَتْ....سَمِعْتُ نِدَاءَ الْمُنَادِي، مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَكُنْتُ فِي صَفِّ النِّسَاءِ الَّتِي تَلِي ظُهُورَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ. ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: إِنِّي وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا، فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ. حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ أَرْفَؤُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَتَّى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ. قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ، انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ. قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا، فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ، قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، رَكِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ، فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَى جَزِيرَتِكَ هَذِهِ، فَجَلَسْنَا فِي أَقْرُبِهَا فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقُلْنَا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتِ: اعْمِدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا، وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً. فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ. قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ. قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قَالُوا: هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ. قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ. قَالُوا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قَالُوا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ. قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ. قَالَ لَهُمْ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي، إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ، فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعَ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا. قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ: هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ. (يَعْنِي الْمَدِينَةَ). أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ؟. فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ. فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ: أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ، وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ. أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّأْمِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ، لَا، بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، مَا هُوَ. وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ. قَالَتْ: فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم.(1)
​حضرت عامر بن شراحیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے، جو بہن تھیں ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی اور ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی تھی کہ بیان کرو مجھ سے ایک حدیث جو تم نے سنی ہو رسول اللہ ﷺ سے اور مت واسطہ کرنا اس میں اور کسی کا، وہ بولیں: اچھا اگر تم یہ چاہتے ہو تو میں بیان کروں گی۔ انہوں نے کہا: ہاں بیان کرو۔ حضرت فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اعلان کرنے والے کو سنا وہ اعلان کر رہا تھا ”چلو نماز ہونے والی ہے“ میں نماز کے لیے نکلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مردوں سے پیچھے عورتوں کی صف میں) نماز ادا کی آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوکر منبر پر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ کے چہرہ پر اس وقت مسکراہٹ تھی آپ ﷺ نے فرمایا ہر شخص اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانتے ہو میں نے تم کو کیوں جمع کیا ہے انھوں نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے آپ ﷺ نے فرمایا بخدا میں نے تم کو نہ تو مال وغیرہ کی تقسیم کے لیے جمع کیا ہے نہ کسی جہاد کی تیاری کے لیے۔ بس صرف اس بات کے لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری پہلے نصرانی تھا وہ آیا ہے اور مسلمان ہوگیا ہے اور مجھ سے ایک قصہ بیان کرتا ہے جس سے تم کو میرے اس بیان کی تصدیق ہوجائے گی جو میں نے کبھی دجال کے متعلق تمہارے سامنے ذکر کیا تھا۔
​وہ کہتا ہے کہ وہ ایک بڑی کشتی پر سوار ہوا جس پر سمندروں میں سفر کیا جاتا ہے ان کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی اور تھے سمندر کا طوفان ایک ماہ تک ان کا تماشا کرتا رہا، آخر مغربی جانب ان کو ایک جزیرہ پر نظر پڑا جس کو دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوئے اور چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر اس جزیرہ پر اتر گئے سامنے سے ان کو جانور کی شکل کی ایک چیز نظر پڑی جس کے سارے جسم پر بال ہی بال تھے کہ ان میں اس کے اعضائے مستورہ تک کچھ نظر نہ آتے تھے، لوگوں نے اس سے کہا کم بخت تو کیا بلا ہے؟ وہ بولی میں دجال کی جاسوس ہوں چلو اس گرجے میں وہاں ایک شخص ہے جس کو تمہارا بڑا انتظار لگ رہا ہے، یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو اب ہم کو ڈر لگا کہ کہیں وہ کوئی جن نہ ہو، ہم لپک کر گرجے میں پہنچے تو ہم نے ایک بڑا قوی ہیکل شخص دیکھا کہ اس سے قبل ہم نے ویسا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا اس کے ہاتھ گردن سے ملاکر اور اس کے پیر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے نہایت مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے، ہم نے اس سے کہا تیرا ناس ہو تو کون ہے؟ وہ بولا تم کو میرا پتہ کچھ نہ کچھ لگ ہی گیا اب تم بتاؤ تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا ہم عرب کے باشندے ہیں ہم ایک بڑی کشتی میں سفر کر رہے تھے سمندر میں طوفان آیا اور ایک ماہ تک رہا۔ اس کے بعد ہم اس جزیرہ میں آئے تو یہاں ہمیں ایک جانور نظر پڑا جس کے تمام جسم پر بال ہی بال تھے اس نے کہا میں (جساسہ) جاسوس (خبر رساں) ہوں چلو اس شخص کی طرف چلو جو اس گرجے میں ہے اس لیے ہم جلدی جلدی تیرے پاس آگئے، اس نے کہا مجھے یہ بتاؤ کہ بیسان (شام میں ایک بستی کا نام ہے) کی کھجوروں میں پھل آتا ہے یا نہیں ہم نے کہا ہاں آتا ہے،اس نے کہا وہ وقت قریب ہے جب اس میں پھل نہ آئے، پھر اس نے پوچھا اچھا بُحیرئہ طبریہ کے متعلق بتاؤ اس میں پانی ہے یا نہیں؟ ہم نے کہا بہت ہے اس نے کہا وہ زمانہ قریب ہے جب کہ اس میں پانی نہ رہے گا پھر اس نے پوچھا زُغَر (شام میں ایک بستی) کے چشمہ کے متعلق بتاؤ اس میں پانی ہے یا نہیں اور اُس بستی والے اپنے کھیتوں کو اس کا پانی دیتے ہیں یا نہیں؟ ہم نے کہا اس میں بھی پانی بہت ہے اور بستی والے اسی کے پانی سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں، پھر اس نے کہا اچھا نبی الامیین کا کچھ حال سناؤ ہم نے کہا وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے ہیں، اس نے پوچھا کیا عرب کے لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ہے؟ ہم نے کہا ہاں، اس نے پوچھا اچھا پھر کیا نتیجہ رہا؟ ہم نے بتایا کہ وہ اپنے گرد و نواح پر تو غالب آچکے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت قبول کر چکے ہیں، اس نے کہا سن لو: ان کے حق میں یہی بہتر تھا کہ ان کی اطاعت کرلیں اور اب میں تم کو اپنے متعلق بتاتا ہوں، میں مسیح دجال ہوں اور وہ وقت قریب ہے جب کہ مجھ کو یہاں سے باہر نکلنے کی اجازت مل جائے گی میں باہر نکل کر تمام زمین پر گھوم جاؤں گا اور چالیس دن کے اندر اندر کوئی بستی ایسی نہ رہ جائے گی جس میں داخل نہ ہوں بجز مکہ اور طیبہ کے کہ ان دونوں مقامات میں میرا داخلہ ممنوع ہے، جب میں ان دونوں میں سے کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا اس وقت ایک فرشتہ ہاتھ میں ننگی تلوار لیے سامنے آکر مجھے داخل ہونے سے روک دے گا اور ان مقامات (مقدسہ) کے جتنے راستے ہیں ان سب پر فرشتے ہوں گے جو ان کی حفاظت کررہے ہوں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لکڑی منبر پر مار کر فرمایا کہ وہ طیبہ یہی مدینہ ہے یہ جملہ تین بار فرمایا دیکھو کیا یہی بات میں نے تم سے بیان نہیں کی تھی لوگوں نے کہا جی ہاں آپ نے بیان فرمائی تھی۔ اس کے بعد فرمایا دیکھو وہ بحر شام یا بحر یمن (راوی کو شک ہے) بلکہ مشرق کی جانب ہے اور اسی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔ (2)


(1) صحیح مسلم، (ریاض، دار السلام للنشر والتوزیع)، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسہ، ص: 1275، رقم : 7386
(2) ترجمان السنۃ، (کراچی، حاجی وجیہ الدین چیر ٹیبل ایسوسی ایشن)، 411/4

مقام
راولپنڈی
تاریخ اور وقت
اگست 10, 2026 @ 08:03صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں