زمره
فتوی نمبر
سوال
زید کے والد نعیم کو اپنے والد سلیم سے وراثت میں قطعہ اراضی حاصل ہوا۔ نعیم اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہے، اس زمین کو بیچ ڈالتا ہے اور اپنے بیٹے زید کے لیے اس میں سے کچھ نہیں چھوڑتا۔ جب کہ نعیم نے اس جائیداد کو اپنی محنت سے حاصل نہیں کیا، اور نہ اس پر اپنے پاس سے کوئی رقم خرچ کی۔ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ کیا نعیم کا یہ عمل شریعت کی رو سے درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں تو شریعت میں ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب
اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کے طور پر حاصل شدہ قطعۂ اراضی کا نعیم مالک ہے۔ اگر اس کو فروخت یا کوئی اور تصرف کرتا ہے تو شرعی طور پر وہ اس کا مجا زہے۔ موروثی جائیداد اور اپنی محنت کے ذریعے حاصل کردہ جائیداد کا ایک ہی حکم ہے۔ البتہ بغیر ضرورت یا ورثا کو محروم کرنے کی غرض سے ایسے اقدامات کرنا شرعاً ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن اس کے فیصلے کا نفاذ ہوجائے گا۔
