اولاد کی شادی کے لیے رکھے ہوئے زیورات پر زکوۃ کا حکم

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0485
سوال

زید کے پاس نقد رقم اور سونے چاندی کے زیورات موجود ہیں، جو نصابِ زکوٰۃ سے زیادہ ہیں، مگر زید کی اولاد کی شادیاں ابھی ہونی ہیں، جن کے اخراجات شاید اس مالیت سے بھی پورے نہ ہوسکیں گے۔ کیا ایسی صورت میں نقد رقم یا سونے چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ جو محض اولاد کی شادی کے لیے رکھے ہوئے ہیں یا یہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گے۔

جواب

اولاد نابالغ یا بالغ معذور کا نان و نفقہ تو والد پر ہے، لیکن شادیوں کے رسمی اخراجات شرعاً غیرضروری ہیں۔ اور ان اخراجات کے لیے رکھے گئے زیورات اور نقد رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اگست 02, 2026 @ 05:19شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں