والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0489
سوال

میرا تعلق ایک معروف کاروباری خاندان سے ہے۔ مجھے ایک لڑکا پسند ہے۔ وہ ایک بہت ہی کامیاب اور مستحکم کاروباری شخص ہے۔ میرے والدین اس کے ساتھ شادی پر راضی نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میری شادی کسی اور سے ہو۔
میری والدہ اس کے گھر گئیں، جو ترنول کے علاقے میں ہے، جبکہ ہم ایف-7 میں رہتے ہیں۔ اب والدہ کہہ رہی ہیں کہ وہ میری شادی اس سے نہیں کراسکتیں کہ خاندان کے لیے مناسب رشتہ نہیں ہے۔ مزید یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں ان کی بات نہ مانوں تو میں اچھی بیٹی نہیں ہوں گی۔ وہ مسلسل روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہمیں مار دوگی، اور اگر ہم مر گئے تو ہماری قبر پر بھی مت آنا۔​

جواب

نکاح محض دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہے، اور اسلام نے اسی حقیقت کے پیشِ نظر نکاح میں والدین اور اولیاء کے مشورے اور رضامندی کو خاص اہمیت دی ہے۔
فقہ حنفی کی رو سے بالغہ عاقلہ عورت اگر کفو (ہم پلہ) میں خود اپنا نکاح کر لے تو یہ نکاح فی نفسہٖ منعقد اور صحیح ہو جاتا ہے، اگرچہ ولی کی اجازت شامل نہ ہو۔ تاہم محض شرعی جواز کا حصول ہی کافی نہیں؛ شریعت نے جہاں رخصت دی ہے وہیں پسندیدگی اور بہتری کا معیار بھی متعین کر دیا ہے۔ والدین کی مرضی کے بغیر نکاح کرنا  خصوصاً جب اس سے:
• والدین کی شدید دل آزاری
• خاندانی وقار و عزت کو نقصان
• یا قطع رحمی کا اندیشہ ہو
تو ایسی صورت میں یہ عمل اگرچہ براہِ راست باطل نہیں مگر شرعاً مکروہ اور خلافِ مروّت و ادب ٹھہرتا ہے، کیونکہ والدین کی دل شکنی اور صلہ رحمی کا خیال نہ رکھنا اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہے۔ یہ عملی و سماجی مشاہدہ ہے کہ والدین کی رضامندی کے بغیر کیے گئے نکاح اکثر مندرجہ ذیل مسائل کا شکار ہوتے ہیں:
خاندانی انتشار اور دوریاں
• ازدواجی زندگی میں دیرپا استحکام کا فقدان
• معاشرتی کشیدگی اور قطعِ رحمی جیسے سنگین نتائج
اسی بنا پر فقہاء نے تاکید کی ہے کہ حتی الامکان نکاح والدین کی رضامندی اور باہمی مشاورت سے کیا جائے، کیونکہ یہی طریقہ شریعت کی روح، خاندانی مصلحت اور معاشرتی سکون کا ضامن ہے۔
یہ اصول یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔ اگر لڑکی اپنے لیے کفو (ہم پلّہ) میں رشتہ چاہتی ہو تو والدین پر بھی شرعاً اور اخلاقاً یہ لازم ہے کہ:
• اس کے جذبات اور پسند کا احترام کریں
• بلاوجہ، محض ذاتی پسند و ناپسند یا دنیوی مفادات کی بنا پر مخالفت سے گریز کریں
• بیٹی کی معقول رائے کو ترجیح دیتے ہوئے اسے کفو میں نکاح سے نہ روکیں
کیونکہ کفو میں رشتے سے انکار کرنا خود بھی سماجی و خاندانی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
لہٰذا دونوں طرف سے، یعنی اولاد اور والدین دونوں کی جانب سے، صبر، حکمت، باہمی افہام و تفہیم اور اللہ تعالیٰ سے دعا کے ساتھ معاملے کو حل کیا جانا چاہیے، تاکہ نہ شریعت کی اجازت پامال ہو اور نہ خاندانی رشتے متاثر ہوں۔

واللہ اعلم بالصواب

مقام
اسلام آباد
تاریخ اور وقت
اگست 01, 2026 @ 11:37صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں