زمره
فتوی نمبر
سوال
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ ہجرت فرما لی تو اس کے بعد انھوں نے کس پیشے کو اپنا ذریعہ روزگار بنایا؟ کیا نبوت، خلافت اور معاشی کاروبار میں کوئی تضاد ہے؟
جواب
حدیث پاک کے مطابق کسب ِحلال فریضہ (فرض نماز) کے بعد فریضہ ہے۔ امام سرخسی محمدبن احمدؒ متوفّیٰ 483ھ نے امام محمدبن حسن شیبانیؒ کی کتاب”الکسب“ کی شرح میں لکھا ہے کہ: ”کسب اور رزقِ حلال کی طلب انبیا و مرسلین کی سیرت اور راستہ ہے۔ چناں چہ حضرات انبیا علیہم السلام میں حضرت نوح نجّار (بڑھئی)، حضرت ادریس خیّاط (درزی)، حضرت ابراہیم بزّاز (کپڑا فروش)، حضرت داؤد زِرہ باف (زرہ بنانے والے)، حضرت سلیمان زنبیل باف (ٹوکریاں بنانے اولے) اور حضرت زکریا علیہم السلام نجّار (بڑھئی) تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے مکہ کی زندگی میں گلہ بانی (بکریاں چرانا) کی، جب کہ ہجرت کے بعد بھی آپﷺ نے تعلیم و تربیت اور نبوت و خلافت کی اجتماعی ذمہ داریوں کے ساتھ تجارت و زراعت جیسے کاروبار میں حصہ لیا۔ حضرت سائب بن ابی سائبؓ فرماتے ہیں کہ: ”چمڑے کے کاروبار میں نبی اکرم ﷺ میرے شریک ِکار تھے۔‘‘ (ابوداؤد) نیز آپؐ نے مدینہ کے جُرف مقام میں کاشت کاری بھی اختیار فرمائی۔“ (شرح کتاب الکسب از صفحہ 71 تا 80۔ طبع بیروت) نبوت کے بعد آپ ﷺ کی اصل مشغولیت نبوت و خلافت کی ذمہ داریوں کی انجام دہی تھی۔
