زمره
فتوی نمبر
سوال
قبرستان جانے کا شرعی طریقہ اور حکم کیا ہے؟
جواب
قبروں کی زیارت کے غرض سے قبرستان جانا سنت سے ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب فرمائی ہے؛ کیونکہ قبروں کی زیارت سے موت اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے، انسان دنیا کی غفلت اور بے فکری سے نکل کر اپنے انجام پر غور کرتا ہے، آخرت میں اپنے فکر و عمل کی جواب دہی کا شعور پیدا کرتا ہے، اہلِ قبور کے انجام سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور نیک اعمال کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ البتہ زیارتِ قبور کے دوران ہر قسم کے غیر شرعی اعمال اور منکرات سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
قبرستان زیارت کی غرض سے جانے والے کے لیے درج ذیل باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے:
• قبرستان جانے سے قبل زائر (زیارت کرنے والا) اپنے گھر میں دو رکعت نفل نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ آیۃ الکرسی اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے، پھر اس نماز کا ثواب مرحوم کو ایصال کرے۔
• راستے میں فضول گفتگو اور غیر ضروری مشاغل سے اجتناب کرے
• قبرستان میں داخلہ کے وقت میت کے پاؤں کی جانب سے آئے اور جب قبر کے پاس پہنچے تو اپنے جوتے اتار دے اور میت کے چہرے کی طرف کھڑے ہوکر ان الفاظ میں سلام کرے:
”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ“
اگر شہداء کی قبروں پر حاضر ہو تو یہ الفاظ کہے:
”سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ“
اور اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کی قبریں ملی ہوئی ہوں تو یہ کہے:
”السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى“
• سلام کے بعدسورۃ الفاتحہ، سورۃ البقرۃ کی ابتدا سے المفلحون تک، سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے لے کرفَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ تک)، آیت الکرسی ، سورۃیس، سورۃ الملک، سورۃ الزلزال اور سورۃ التکاثر میں سے جو آسان ہو تلاوت کرے۔
• حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص سورۂ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو بخش دے، اسے اہلِ قبور کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سورۂ یٰس پڑھنے کی بھی فضیلت منقول ہے، پھر قبلہ رخ ہوکر یہ دعا کرے:
”اللَّهُمَّ أَوْصِلْ ثَوَابَ مَا قَرَأْنَاهُ إلَيْهِمْ“
(اے اللہ ہم نے جو کچھ پڑھا ہے اس کا ثواب تمام قبر والوں کو پہنچا)
• دعا کرتے وقت بغیر ہاتھ اٹھائےقبلہ رخ کھڑے ہوکر (اگر وقت ہو تو طویل ورنہ مختصر) دعا کرے، جس میں اپنے اور تمام مرحومین کے لیے مغفرت، رحمت اور عافیت کی دعا کرے۔
• قبروں کے پاس وہ اعمال اختیار کرنا مکروہ ہے جو سنت سے ثابت نہیں۔ سنت طریقہ یہی ہے کہ سلام کیا جائے، قرآن پڑھا جائے، کھڑے ہو کر دعا کی جائے اور عبرت حاصل کی جائے۔
• ہر ہفتے کسی دن قبرستان جانا چاہیے، تاہم جمعہ، جمعرات، ہفتہ اور پیر کے دن زیادہ فضیلت رکھتے ہیں، اور ان میں بھی جمعہ کا دن افضل ہے۔
