تحریری ہبہ کا حکم

زمره
اجارہ و ہبہ
فتوی نمبر
0481
سوال

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک تحریر لکھ دے کہ اس نے اپنا مکان کسی کو ہبہ کر دیا ہے، لیکن اس کی زندگی میں جس شخص کے نام مکان ہبہ کیا گیا ہو اس کا قبضہ، قبولِ ہبہ، عملی تصرف یا اعلانِ ملکیت ثابت نہ ہو اور وہ تحریر بھی مورث کی وفات کے کافی عرصہ بعد سامنے آئے، تو کیا شریعت کے مطابق، صرف اس تحریر کی بنیاد پر ہبہ ثابت ہو جائے گا؟ یا مورث کی وفات کے بعد وہ مکان ورثا کی ملکیت قرار پائے گی؟

جواب

​ہبہ کے صحیح اور مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ موہوب لہ (جس شخص کو ہبہ کیا گیا ہو)، واہب (ہبہ کرنے والے) کی زندگی ہی میں موہوبہ چیز (مکان وغیرہ) پر قبضہ حاصل کر لے۔ اگر واہب کی زندگی میں قبضہ حاصل نہ ہو تو ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں واہب (مورث) نے اپنی زندگی میں تحریراً جس شخص (موہوب لہ) کے نام مکان کیا تھا، اس کا واہب کی زندگی میں قبضہ نہ ہونے کے سبب ہبہ مکمل نہیں ہوا، اس لیے مذکورہ مکان مورث کے ترکہ میں شمار ہوگا، جو اس کے شرعی ورثا کے درمیان ان کے حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔​

مقام
سوات
تاریخ اور وقت
جولائی 20, 2026 @ 07:56صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں