اجارہ میں نقصان مستاجر کے ذمہ ڈالنے کا حکم

زمره
اجارہ و ہبہ
فتوی نمبر
0467
سوال

آج کل کچھ کمپنیاں اور افراد کرائے پر رکشہ، ٹیکسی، کوئی اوزار یا مشین فراہم کرتے ہیں۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ فائدے میں تو مشین، رکشہ اور ٹیکسی کا مالک شریک ہوتا ہے، لیکن نقصان کی صورت میں ڈرائیور اور مزدور ہی ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔ کیا اس طرح کا معاملہ کرکے روزانہ کے حساب سے کمپنی یا مالک کو مخصوص رقم دینا یا لینا جائز ہے؟

جواب

رکشہ ، ٹیکسی، اوزار یا مشین مناسب کرایہ پر دی جا سکتی ہے، جب کہ اس میں درجِ ذیل شرائط اور امور پیش نظر رہیں:

1۔ یہ معاملات تعاون باہمی اور انصاف پر مبنی باہمی اشتراک کی اساس پر ہونے چاہییں۔

2۔ اسلام کے سنہری اصول: ’’لا ضَرَرَ وَ لاَ ضِرارَ فی الإسلام۔‘‘ (نہ نقصان اٹھائو اور نہ نقصان دو) کے اصول پر مبنی ہونے چاہییں۔

3۔ چوں کہ کرائے دار کے قبضے میں کرائے کی چیزیں امانت ہوتی ہیں، اس لیے ناگہانی حادثے یا چوری کی صورت میں چیز کو کرائے پر لینے والا نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

4۔ چیز کو استعمال کرنے کے نتیجے میں چھوٹی خرابیوں کی تلافی مستاجر (کرائے پر لینے والے) کے ذمے ہے۔ بڑی خرابیاں‘ مثلاً انجن کا فالٹ جس میں مستاجر کی تعدی (زیادتی) نہ ہو ، اس کا ازالہ مالک کے ذمے ہے۔

5۔ معاہدہ کرتے وقت تمام معاملات اور ان کی شرائط تحریر میں لکھی جائیں اور دستاویز پر کم از کم دو گواہوں کے دستخط ہونے چاہییں۔

مقام
مری
تاریخ اور وقت
جولائی 19, 2026 @ 08:40صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں