زمره
فتوی نمبر
سوال
میرے والد کی جو سوتیلی ماں یعنی میری سوتیلی دادی ہے اس کی بیٹی، پوتی، پڑ پوتی، یا لکڑ پوتی سے میرے والد صاحب کا نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب
والد کی منکوحہ (جسے عرف میں سوتیلی ماں کہا جاتا ہے) محض عقدِ نکاح کی وجہ سے بیٹے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ (1)
ترجمہ : ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔
البتہ اس سوتیلی ماں کی وہ بیٹی جو کسی دوسرے شوہر سے ہو، بیٹے کی محرم نہیں بنتی؛ لہٰذا اس سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
ہاں، اگر سوتیلی ماں کی بیٹی خود اسی والد سے پیدا ہوئی ہو تو وہ لڑکے کی باپ شریک بہن ہوگی، اس لیے اس سے نکاح قطعی طور پر ناجائز اور حرام ہے۔
اسی اصول کی بنا پر اگر کسی شخص کی سوتیلی ماں (یعنی اس کے والد کی منکوحہ) کی کسی دوسرے شوہر سے بیٹی، پوتی، پڑپوتی یا اسی طرح کی دیگر اولاد ہو تو ان سے نکاح شرعاً جائز ہے؛ کیونکہ ان کے درمیان نسب، رضاعت یا مصاہرت کی کوئی ایسی حرمت قائم نہیں ہوتی جو نکاح کو ممنوع بنائے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
(1) 4- النساء: 22
