زمره
فتوی نمبر
سوال
میں اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو رہا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ صرف بات ختم کرنے کے لیے کہا: "میں نے تمہیں چھوڑ دیا۔" میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟
جواب
قرآن حکیم میں چھوڑ دینے کو طلاق کے معنی میں یا طلاق کے نتیجہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے لہذا "میں نے تمہیں چھوڑ دیا" کے الفاظ طلاق کے حکم میں صریح (واضح) ہیں اور صریح الفاظ میں دی ہوئی طلاق بغیر نیت کے بھی واقع ہوجاتی ہے۔
صورت مسئولہ میں جھگڑے کے دوران مذکورہ الفاظ کہنے سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے، اس لیے اس پر عدت کے احکامات لاگو ہوں گے۔ عدت یعنی تین ماہواریاں ( اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) مکمل ہونے سے پہلے شوہر کے پاس رجوع کرنےحق موجود ہے۔ اگر شوہر عدت کے دوران رجوع کرلیتا ہے تو نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگر عدت ختم ہونے تک شوہر رجوع نہیں کرتا تو نکاح ختم ہونے کے ساتھ رجوع کرنے کا حق بھی ختم ہوجائے گا۔
عدت گزرنے کے بعد دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو مہرِ جدید کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا، جس کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
