دو مختلف ملکوں کی کرنسی کی خرید و فروخت کا حکم

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0455
سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی پاکستانی ایران کی کرنسی کسی منی چینجر سے خرید کر اپنے پاس رکھ لے اور مقصد یہ ہو کہ جب کبھی اس کا ریٹ بڑھ جائے گا تو وہ اسے فروخت کر دے گا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

یہ مسئلہ بیعِ صرف (مختلف ممالک کی کرنسیوں کے تبادلے) سے متعلق ہے۔ شرعاً مختلف ممالک کی کرنسیوں کی خرید و فروخت جائز ہے، بشرطیکہ بیعِ صرف کی شرائط پوری ہوں، جن میں سب سے اہم شرط مجلسِ عقد میں قبضہ ہے۔ یعنی کرنسی کا تبادلہ نقد اور فوری ہو؛ دونوں فریق ادھار پر جدا نہ ہوں۔ اگر دونوں نے ادائیگی یا حوالگی بعد کے لیے مؤخر کردی تو یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ بیعِ صرف میں ادھار کی گنجائش نہیں۔
​لہٰذا اگر آپ منی چینجر سے ایرانی کرنسی موجودہ مارکیٹ ریٹ پر خرید کر اس پر حقیقی قبضہ حاصل کرلیں، پھر کچھ عرصہ بعد قیمت بڑھنے پر اسے فروخت کریں تو یہ شرعاً جائز ہے اس میں حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہوگا، کیونکہ یہ حقیقی ملکیت میں موجود کرنسی کی خرید و فروخت ہے، نہ کہ سٹہ یا جوا۔
​البتہ اگر معاملہ صرف کاغذی ہو، کرنسی پر حقیقی قبضہ حاصل نہ کیا جائے، یا صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمانے کے لیے فارورڈ یا مارجن ٹریڈنگ کی جائے، تو یہ بیعِ صرف کی شرائط کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
الغرض موجودہ ریٹ پر کرنسی خرید کر اس پر شرعی قبضہ حاصل کرنا، پھر بعد میں ریٹ بڑھنے پر فروخت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ خرید و فروخت بیعِ صرف کے شرعی احکام کے مطابق نقد اور قبضہ کے ساتھ انجام پائے۔​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
جولائی 13, 2026 @ 08:50شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں