زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی پاکستانی ایران کی کرنسی کسی منی چینجر سے خرید کر اپنے پاس رکھ لے اور مقصد یہ ہو کہ جب کبھی اس کا ریٹ بڑھ جائے گا تو وہ اسے فروخت کر دے گا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
یہ مسئلہ بیعِ صرف (مختلف ممالک کی کرنسیوں کے تبادلے) سے متعلق ہے۔ شرعاً مختلف ممالک کی کرنسیوں کی خرید و فروخت جائز ہے، بشرطیکہ بیعِ صرف کی شرائط پوری ہوں، جن میں سب سے اہم شرط مجلسِ عقد میں قبضہ ہے۔ یعنی کرنسی کا تبادلہ نقد اور فوری ہو؛ دونوں فریق ادھار پر جدا نہ ہوں۔ اگر دونوں نے ادائیگی یا حوالگی بعد کے لیے مؤخر کردی تو یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ بیعِ صرف میں ادھار کی گنجائش نہیں۔
لہٰذا اگر آپ منی چینجر سے ایرانی کرنسی موجودہ مارکیٹ ریٹ پر خرید کر اس پر حقیقی قبضہ حاصل کرلیں، پھر کچھ عرصہ بعد قیمت بڑھنے پر اسے فروخت کریں تو یہ شرعاً جائز ہے اس میں حاصل ہونے والا نفع بھی جائز ہوگا، کیونکہ یہ حقیقی ملکیت میں موجود کرنسی کی خرید و فروخت ہے، نہ کہ سٹہ یا جوا۔
البتہ اگر معاملہ صرف کاغذی ہو، کرنسی پر حقیقی قبضہ حاصل نہ کیا جائے، یا صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمانے کے لیے فارورڈ یا مارجن ٹریڈنگ کی جائے، تو یہ بیعِ صرف کی شرائط کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
الغرض موجودہ ریٹ پر کرنسی خرید کر اس پر شرعی قبضہ حاصل کرنا، پھر بعد میں ریٹ بڑھنے پر فروخت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ خرید و فروخت بیعِ صرف کے شرعی احکام کے مطابق نقد اور قبضہ کے ساتھ انجام پائے۔
