نظامِ ظلم کے خلاف شعوری بنیادوں پر مزاحمت ضروری ہے

زمره
جھاد و غزوات
فتوی نمبر
0460
سوال

غلط نظام کے اثرات نے اس قدر احاطہ کرلیا ہے کہ اپنے جائز حق کے حصول کے لیے بھی غلط طریقہ کار اپنانے کے علاوہ کوئی جائز سبیل باقی نہیں رہتی۔ ایسی صورت حال میں آپ سے رہنمائی طلب ہے آیا کہ اپنا حق چھوڑ دیں یا رشوت دے کر اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب

ہر مسلمان کے لیے شرعاً لازم ہے کہ وہ فاسد نظام کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اسے دل سے برا سمجھے، اس کے خلاف انفرادی و اجتماعی سطح پر مزاحمتی شعور بیدار کرے اور غلبہ دین کے لیے مسلسل کوشاں رہے۔ ایسے باطل نظام کے ساتھ غیر اضطراری حالت میں سمجھوتا کرلینا یا اس کے استحکام کا ذریعہ بننا جائز نہیں بلکہ معروضی حالات کے مطابق شعوری بنیادوں پر باطل نظام کے خاتمے کی جدوجہد ہر سطح پر ناگزیر ہے۔

صورت مسئولہ میں ملکی نظام کی خرابی اور وسیع الفساد ہونے کے باعث جب جائز ذرائع مسدود ہوجائیں تو شریعت مطہرہ کے نزدیک ایسی حالت، حالتِ اضطرار (مجبوری کی حالت) ہے، جس میں رخصت کا پہلو نکلتا ہے۔ تاہم اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کے لیے درج ذیل شرائط کی پابندی لازمی ہے:

پہلی شرط (حتی الامکان کوشش)
متبادل راستہ اختیار کرنے سے پہلے، جائز ذرائع اپنانے کی حتی الامکان کوشش کی جائے۔

دوسری شرط (بقدر ضرورت حق)
کامیابی نہ ملنے پر صرف اپنے جائز حق کے حصول کے لیے ضرورت کی حد تک متبادل راستہ اختیار کرنے کی گنجائش ہوگی، اس سے تجاوز کرنا جائز نہ ہوگا۔

تیسری شرط (رجوع الی الاصل)
اگر کسی بھی مرحلے پر دوبارہ جائز طریقہ اختیار کرنا ممکن ہوجائے تو فی الفور متبادل راستہ ترک کرکے جائز طریقہ اپنانا لازم ہوگا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب

مقام
بنوں
تاریخ اور وقت
جولائی 12, 2026 @ 12:38شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں