قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد بھول جانے کا حکم

زمره
تفسیر و تلاوتِ قرآن
فتوی نمبر
0456
سوال

جو شخص قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد بھول جائے، لیکن اس کے احکامات پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہو تو شریعت میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

قرآن مجید کے احکامات پر عمل کرنا ہر ایک مسلمان کے لیے شرعاً لازم اور ضروری ہے۔ جو شخص کتاب مقدس قرآن مجید کے احکامات کو اپنے عمل کا محور بناتا ہے، اس کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کی خوش خبری ہے۔ البتہ چوں کہ قرآن مجید کو حفظ کرکے بھول جانا اور اس کے احکامات پر عمل کرنا دو الگ امور ہیں اس لیے دونوں کا نتیجہ بھی مختلف ہوگا، چنانچہ حدیث مبارک میں ایسا شخص کہ جو اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے قرآن حکیم جیسی عظیم نعمت کو حفظ کرنے کے بعد اسے بھلا دے اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے:

عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: ”مَا مِنِ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ“.(1)
​ حضرت سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآنِ کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا/کوڑھی ہونے کی حالت میں ہوگا“۔

لہذا، جو شخص حفظ کرنے کے بعد قرآن مجید بھول چکا ہو، اس کو چاہیے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ جس قدر ممکن ہو قرآن مجید کو دوبارہ یاد کرنے کی کوشش کرتا رہے اور مایوس ہونے کے بجائے اللہ تبارک و تعالی سے ہمت اور توفیق کی دعا مانگتا رہے۔​


(1)  سنن ابي داوود (بیروت، المکتبۃ العصریۃ)، باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه، 75/2، رقم: 1474​

مقام
کراچی
تاریخ اور وقت
جولائی 09, 2026 @ 08:08صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں