گناہ کرنے سے انسان پر نفسیاتی طور پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

زمره
شرور و فتن
فتوی نمبر
0444
سوال

گناہ کرنے سے انسان پر نفسیاتی طور پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

جواب

حدیث ِپاک میں آیا ہے کہ انسانی دلوں پر کچھ اس طرح سے فتنے آتے ہیں جیسا کہ چٹائی کی بُنتی کے وقت ہر ایک تنکے کے بعد دوسرا آتا ہے۔ پس جو دل ان فتنوں کا پانی پی لیتا ہے تو اس دل میں ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ جو دل ان فتنوں کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے تو اس کے دل میں سفید نقطہ لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دو طرح کے دل بن جاتے ہیں: ایک سفید چکنے پتھر کی طرح کا دل، چناںچہ جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، کوئی فتنہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ دوسرے انسان کا دل سیاہ اور آلودہ اُلٹی کالی ہانڈی کی طرح ہو جاتا ہے۔ وہ کسی نیک کام کی پہچان نہیں رکھتا اور کسی برے کام کو ناپسند نہیں کرتا۔ وہ اپنی خواہشات کے مطابق عمل کرتا ہے۔ (مشکوۃ، حدیث نمبر 5380) اور دوسری حدیث ہے کہ: ’’گناہ وہ ہے جو سینے میں کھٹکا (اضطراب) پیدا کردے۔‘‘ (مشکوٰۃ)
پس گناہ کے نفسیاتی اثرات یہ آتے ہیں کہ گناہ انسان کے اطمینان وسکون کو برباد کردیتاہے۔ انسان میں ہمت وجرأت ختم ہوجاتی ہے اور سستی و غفلت بڑھ جاتی ہے۔ اگر توبہ نہ کی جائے تو وہ مزید گناہ کا محرک بنتا ہے۔ انسان اللہ کی رحمت سے دور ہوتا ہے اور غضب کے قریب ہوتاجاتا ہے۔ اس لیے گناہ سے بچنا نفل نیکیوں سے زیادہ اہم ہے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
جولائی 07, 2026 @ 11:54صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں