بیوہ کا بیٹی کے گھر عدت گزارنے کا حکم

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0454
سوال

ایک بیوہ خاتون اپنی عدت بڑی بیٹی کے گھر گزار رہی ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ عدت کے بعد بھی وہیں قیام کریں کیونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ صورتحال درج ذیل ہے:
1. سابقہ گھر سے کوئی تعلق نہیں: شوہر کا گھر کرائے پر تھا؛ شوہر کے انتقال کے بعد اب وہ گھر چھوٹی بیٹی نے کرائے پر لے رکھا ہے، لہٰذا اب اس گھر سے مرحوم شوہر یا بیوہ کا کوئی تعلق نہیں رہا (یعنی وہ وہاں کرایہ دار یا 'Paying Guest' کے طور پر نہیں رہ رہیں)۔
2. چھوٹی بیٹی کے گھر میں داماد پر انحصار: چھوٹی بیٹی ملازمت کرتی ہے اور گھر کے کام کاج اور بیرونی امور میں اسے اپنے شوہر کا تعاون حاصل ہے۔ اگر بیوہ (ساس) وہاں رہیں تو انہیں بھی طبی امداد اور روزمرہ کے گھریلو کاموں کے لیے اسی داماد پر انحصار کرنا پڑے گا، جبکہ بیوہ خاتون کے لیے داماد پر اس طرح کا انحصار کرنا باعثِ اطمینان نہیں ہے۔
3. بڑی بیٹی کا قرب اور خود مختاری: بڑی بیٹی، بیوہ کے مرحوم شوہر کے پرانے کرائے کے گھر کے قریب ہی رہتی ہے۔ وہ صحت مند اور خود مختار ہے اور عدت کے دوران (اور اس کے بعد بھی) اپنی بیوہ والدہ کی دیکھ بھال اور ذاتی معاونت بخوبی کر سکتی ہے، جس میں کسی داماد یا خاندان کے کسی اور فرد پر انحصار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ شوہر کے انتقال کے وقت بھی بیوہ خاتون اسی گھر میں موجود تھیں۔
4. جذباتی اور طبی سکون: بڑی بیٹی کے ساتھ رہنے میں بیوہ خاتون جذباتی اور طبی اعتبار سے زیادہ پرسکون محسوس کرتی ہیں اور اپنی خود داری کو بہتر طور پر برقرار رکھ سکتی ہیں، کیونکہ اس صورت میں انہیں کسی داماد پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
کیا آپ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں گے اور تحریری فتویٰ جاری کریں گے کہ آیا وہ عدت اور اس کے بعد بھی اسی گھر میں (بڑی بیٹی کے ساتھ) قیام کر سکتی ہیں۔

جواب

اگر سابقہ گھر میں جو بیوہ کی چھوٹی بیٹی نے کرائے پر لے رکھا ہے، رہنے کی کوئی سبیل نہیں اور وہاں قیام ممکن نہ ہو تو بیوہ کے لیے بڑی بیٹی کے گھر عدت کے ایام گزارنا اور بعد ازاں وہیں قیام کرنا جائز اور درست ہے۔

یہ حکم درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہے:
· سابقہ گھر سے بیوہ کا کوئی شرعی یا ملکیتی تعلق باقی نہیں رہا۔
· بڑی بیٹی کے گھر میں قیام میں بیوہ کو کسی داماد یا غیر محرم پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، جو ان کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔
· بڑی بیٹی مکمل طور پر اپنی والدہ کی دیکھ بھال کرنے کی اہل ہے اور قریب بھی رہتی ہے۔
· عدت کے دوران اور بعد میں جذباتی اور طبی سکون کے لیے بڑی بیٹی کا گھر زیادہ مناسب ہے۔

فقہاء کرام نے وضاحت فرمائی ہے کہ عدت کا گھر وہی ہے جہاں شوہر کا انتقال ہوا، تاہم جب ضرورت یا مجبوری پیش آئے (جیسے گھر کا کرائے پر دوسرے کو دے دیا جانا، گھر کا منہدم ہو جانا، مال کے ضائع ہونے کا خوف، یا کرایہ ادا کرنے کی استطاعت نہ ہونا) تو عدت کا گھر تبدیل کیا جا سکتا ہے اور قریب ترین جگہ منتقل ہونا جائز ہے۔
(در مختار مع شامی، کتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل فی الحداد، ج۳، ص۵۳۶)
لہذا صورتِ مسئولہ میں بیوہ خاتون کے لیے بڑی بیٹی کے گھر عدت گزارنا اور بعد ازاں وہیں قیام کرنا شرعاً درست اور جائز ہے، بشرطیکہ عدت کے دوران شرعی حدود کا خیال رکھا جائے۔

والله أعلم بالصواب


مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
جولائی 07, 2026 @ 10:59صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں