جائے ملازمت میں قصر کا حکم

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0443
سوال

میرے ایک ساتھی ہیں، وہ بطور چئیر مین بورڈ ، ڈیڑھ سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر فیصل آباد گئے ہیں۔ وہ ہر ہفتے ملتان آئیں گے۔ فیملی بھی یہیں ملتان میں ہے۔ دریافت طلب امور یہ ہیں کہ :
(1) کیا وہ ملازمت کے عرصہ میں فیصل آباد میں قصر نماز پڑھیں گے؟
(2) اگر ایک بار بھی پندرہ دن قیام ہوگیا تو کیا وہ مکمل نماز پڑھیں گے؟
(3)اگر وہ فیملی اپنے ساتھ لے جائیں لیکن قیام چودہ دن کا ہو تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

(1) پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں وہ فیصل آباد میں قصر نماز پڑھیں گے۔
(2) جی ہاں! ملازمت کے دورانیے میں اگر ایک بار بھی پندرہ روز یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت سے قیام کرلیا تو فیصل آباد ان کا وطن اقامت بن جائے گا، جب تک وہاں ان کا آنا جانا رہے گا، وہ پوری نماز پڑھیں گے۔
(3) فیملی کے ساتھ چودہ روز قیام کی نیت کی صورت میں بھی وہ قصر نماز ہی پڑھیں گے بشرطیکہ پہلے کبھی بھی وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو، ورنہ وہ پوری نماز پڑھیں گے۔

​فقط واللہ تعالی اعلم بالصواب​

مقام
ملتان
تاریخ اور وقت
جولائی 06, 2026 @ 02:47شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں