زمره
فتوی نمبر
سوال
(1) زکوٰۃ کی رقم زیادہ ہے۔ یک مشت دینا مشکل ہے۔ تو کیا وقفے سے تین یا چار اقساط میں ادا کی جاسکتی ہے؟ نیز حق دار کو مد بتانا ضروری ہے؟
(2) مزید کہ یہ بات میرے علم میں آئی ہے کہ زکوٰۃ صرف حکومت کو ادا کی جائے __ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے منکرین زکوٰۃ کے متعلق حکم نامہ جاری فرمایا __ جب کہ آپ کے محلہ دار اور رشتہ دار بھی زکوٰۃ کے مستحق ہوں۔
جواب
(1) زکوٰۃ کی رقم کے حصے بنا کر ماہانہ یا ہفتہ وار اَقساط میں ادا کرنا جائز ہے۔ زکوٰۃ دہندہ‘ حق دار کو دیتے وقت ادائیگی ٔفرض کی نیت کرے۔ حق دار کو مد بتانا ضروری نہیں۔
(2) حکومت اگر اسلام کا مکمل قانونِ شریعت‘ اس کی اصل روح کے مطابق صحیح معنوں میں نافذ کرے اور امانت و دیانت سے مصارف میں خرچ کر سکتی ہو تو وہ بھی زکوۃ لینے کی ذمہ دار ہے۔ بصورتِ دیگر مستحقین زکوٰۃ، یتامیٰ مساکین وغیرہ، خواہ رشتہ دار ہوں یا محلہ دار ہوں‘ ان کو خود تحقیق کر کے زکوۃ ادا کرنی چاہیے۔
