زمره
فتوی نمبر
سوال
میں اس وقت برطانیہ (UK) میں مقیم ہوں۔ میرے حمل کو تقریباً 9 ہفتے (دو ماہ سے کچھ زائد) ہوئے ہیں، یعنی ابھی 120 دن (چار ماہ) مکمل نہیں ہوئے اور حمل میں روح نہیں پھونکی گئی۔ میرے پہلے ہی دو بہت چھوٹے بچے ہیں؛ ایک کی عمر تقریباً 2 سال اور دوسرے کی 1 سال ہے، جب کہ ان دونوں کے درمیان بھی صرف 11 ماہ کا وقفہ ہے۔ بیرونِ ملک رہائش، گھر کے تمام کاموں کی ذمہ داری اور کسی قسم کی خاندانی مدد نہ ہونے کی وجہ سے میں شدید جسمانی و ذہنی دباؤ، اعصابی تھکن اور بے چینی کا شکار ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر یہ حمل برقرار رہا تو میری اپنی صحت مزید متاثر ہوگی اور میں اپنے موجودہ بچوں کی مناسب پرورش بھی نہیں کر سکوں گی۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعت كی تعلیمات کی روشنی میں، مذکورہ شدید مجبوری اور عذر کی بنا پر، چار ماہ (120دن) مکمل ہونے سے پہلے 09 ہفتے کے اس حمل کو ضائع (اسقاطِ حمل) کروانے کی شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
انسان کی تخلیق کے مراحل قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔ حمل پہلے 40 دن نطفہ، پھر 40 دن علقہ (جمے ہوئے خون)، پھر 40 دن مضغہ (گوشت کے لوتھڑے) کی حالت میں رہتا ہے۔ اس کے بعد 120 دن (چار ماہ) مکمل ہونے پر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ(1)
ترجمہ: پھر ہم نے نطفہ کا لوتھڑا بنایا، پھر ہم نے لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی بنائی، پھر ہم نے اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے ایک نئی صورت میں بنا دیا۔ سو اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر بنانے والا ہے۔
صورت مسئولہ میں چار ماہ سے پہلے اگر حمل کی وجہ سے مستقبل میں ماں کی صحت متاثر ہونے کا خطرہ ہو، یا باقی بچے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی پرورش میں شدید دشواری پیش آئے، یا کوئی اور معتبر شرعی عذر موجود ہو، تو اسقاط حمل کی گنجائش ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
(1) 23- المؤمنون: 14
