زمره
فتوی نمبر
سوال
میں ایک ماہ کی حاملہ ہوں۔ میرا شوہر اگر مجھے طلاق دے دے تو کیا میرے لیے اسقاط حمل کی گنجائش ہوگی؟
جواب
اسقاطِ حمل کا سوچنے کے بجائے ان اسباب و وجوہات کی بروقت اصلاح پر توجہ دینی چاہیے جو طلاق کا باعث بنتے ہیں۔ اگر شوہر کا رویہ نامناسب ہو تو ہر مناسب موقع پر محبت و نرمی کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کریں۔ باہمی اصلاح نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے معزز دیندار افراد کو درمیان میں لاکر اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ طلاق دینے کے بجائے صلح اور درگزر سے کام لے، بیوی کی غلطی پر حکمت اور خیر خواہی کے جذبہ سے اس کی اصلاح کرے اور کشیدگی بڑھانے والے تمام اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ تاہم، اگر تمام کوششوں کے باوجود طلاق ہو بھی جائے، تو بغیر کسی شرعی عذر کے حمل کو ضائع کرنا شرعاً جائز نہیں۔ طلاق کے بعد بچے کی پیدائش تک حاملہ کی عدت ہوتی ہے اور اس دوران نان و نفقہ کی تمام ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے۔
