زمره
فتوی نمبر
سوال
میری زمین کے بارے میں عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا اور میں نے اپنا حق شرعی و قانونی طریقے سے ثابت کرکے وصول کر لیا۔ لیکن اس کے بعد بعض برادری والوں نے حسد اور مخالفت کی بنا پر مختلف مقدمات، تھانوں میں شکایات اور دیگر ذرائع سے مجھے مسلسل پریشان کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ اب میرے لیے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہاں پُر سکون زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ کیا ایسی حالت میں، میرے لیے اپنی جان، مال اور اہلِ خانہ کے تحفظ کی خاطر اپنے آبائی شہر سے کسی دوسرے شہر منتقل ہونا شرعاً درست ہے؟
جواب
بر بنائے صحتِ واقعہ اپنا شرعی اور قانونی حق ثابت کرنے کے بعد کسی کو ناحق اس کے شہر سے نکالنا یا اس پر ایسے حالات مسلط کرنا کہ وہ آبائی شہر چھوڑنے پر مجبور ہو جائے، ایک مجرمانہ فعل ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے ایسے ستم دیدہ لوگوں کی دلجوئی فرمائی ہے اور ظالموں کو دنیا و آخرت میں رسوائی کا مستحق قرار دیا ہے۔
صورت مسئولہ میں، اگر برادری کے افراد اپنے اس ظالمانہ رویے سے باز نہ آئیں تو سائل کے لیے اپنی جان و مال اور اہل خانہ کی حفاظت کی خاطر اپنے آبائی شہر سے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونا شرعاً جائز ہے۔
