زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان دین، ان مسائل کے بارے میں:
سوال 1
ہم پانچ بھائی اپنے والد صاحب کی میراث تقسیم کر رہے ہیں۔ ہماری سات بہنیں ہیں، جن میں سے ایک بہن اور والدہ محترمہ والد صاحب کی وفات کے بعد فوت ہوئیں۔ کیا فوت شدہ بہن اور والدہ کا میراث میں حق بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کتنا؟
سوال 2
والد صاحب نے جو رقم یا جائیداد چھوڑی تھی ہم بھائیوں نے مل کر اس کام کو آگے بڑھایا اور یوں 100 روپے سے 1000 بنا دیا۔ والد صاحب نے اپنی حیات میں کام کاج کا ذمہ دار بڑے بھائی کو بنا دیا تھا۔ اس کے 15 سال بعد والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اس دورانیے میں ہم بھائیوں نے مل کر کام کو کافی آگے بڑھایا۔ جب 15 سال بعد والد صاحب کا انتقال ہوگیا تو سب مشترکہ طور پر رہ رہے تھے، کسی نے بھی وراثت کو تقسیم کرنے کا تقاضہ نہیں کیا اور سب کی رضامندی تھی کہ وراثت کو تقسیم نہ کیا جائے۔ پھر سات سال بعد والدہ کا بھی انتقال ہو گیا، اس کے دو سال بعد ترکہ کو تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ اب اس میں بہنوں کا حق والد صاحب کے اس وقت کے چھوڑی ہوئی اصل رقم مثلاً 100 روپے میں بنتا ہے یا اس 100 روپے کو بھائیوں نے اپنی محنت سے آگے بڑھا کر 1000 روپے کردیا اس میں بنتا ہے؟
سوال 3
گاؤں میں جس مکان میں رہتا ہوں وہ مکان والد صاحب کا چھوڑا ہوا ہے، کیا اس مکان پر بہنوں کا حق بنتا ہے یا نہیں؟ اب اس مکان کو میں نے 37 لاکھ روپے میں بیچ دیا ہے۔
سوال 4
کیا بیٹھک یعنی مہمان خانہ پر بہنوں کا حق بنتا ہے؟ یہ بیٹھک والد صاحب نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر بنایا تھا پھر بھائیوں کی رضامندی سے چچا کے بیٹوں کو ہبہ کردیا تھا۔
سوال 5
اگر میں آج بہنوں کو ان کے مشورے سے کچھ رقم کم دے دوں اور بقایہ رقم ان کی مرضی سے کچھ عرصے کے بعد دے دوں، کیا یہ جائز ہے؟
سوال 6
کیا ورثاء کی طرف سے کچھ رقم ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر کسی فلاحی ادارے کو دے سکتا ہوں؟ یا ان کی رضامندی ضروری ہے؟
سوال 7
رقم دینے کے بعد اگر بہنوں پر حج فرض ہوگیا تو محرم رشتہ داروں (باپ، بیٹا، بھائی) میں سے کون ان کو حج کرائے؟
جواب
جواب 1
شریعتِ مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ ترکہ تقسیم کرتے وقت اس بات کا اعتبار کیا جاتا ہے کہ مورث (یعنی والد) کے انتقال کے وقت کون کون سے ورثاء حیات تھے۔ چونکہ آپ کی بہن اور والدہ صاحبہ، والد مرحوم کی وفات کے وقت زندہ تھیں، اس لیے وہ دونوں شرعاً ترکہ کی مستحق ٹھہریں۔ اب چونکہ وہ خود بھی فوت ہو چکی ہیں، تو ان کا حصہ ان کے اپنے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا (یعنی ان کا حصہ پہلے ان کے نام لگایا جائے گا، پھر آگے ان کے ورثاء میں منتقل ہوگا)۔
تفصیل یہ ہے کہ والد مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے حقوقِ متقدمہ ادا کیے جائیں گے، یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے گی، اور اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے کل ترکہ کے ایک تہائی (1/3) کی حد میں نافذ کیا جائے گا۔ ان تمام امور سے فارغ ہونے کے بعد بقیہ ترکہ کو 136 حصوں پر تقسیم کیا جائے گا، جو درج ذیل طریقے سے ورثاء میں منقسم ہوں گے:
پانچوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 14 حصے (10.29 فیصد فی کس) ملیں گے۔
ساتوں بہنوں میں سے ہر ایک کو 7 حصے (5.15 فیصد فی کس) ملیں گے، اس میں وہ بہن بھی شامل ہے جو بعد میں فوت ہوئیں۔
بیوہ (والدہ مرحومہ) کو 17 حصے (12.5 فیصد) ملیں گے۔
واضح رہے کہ مرحومہ بہن اور مرحومہ والدہ کا یہ متعین حصہ اب ان کے اپنے شرعی ورثاء (یعنی ان کی اولاد یا دیگر مستحقین) میں الگ سے میراث کے قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگا۔
جواب 2
شرعی اصول کے مطابق، بھائیوں نے والد مرحوم کے چھوڑے ہوئے سرمائے کو بنیاد بنا کر جو نفع کمایا، چاہے وہ کاروبار میں محنت کا نتیجہ ہو یا تجارت کی برکت کا، وہ نفع اصل سرمائے ہی کا حصہ شمار ہوگا۔ لہٰذا اصل رقم (100 روپے) کے ساتھ ساتھ اس سے حاصل ہونے والا تمام منافع اور بڑھوتری (یعنی مجموعی 1000 روپے)، نیز دیگر تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات بھی والد مرحوم کے ترکہ ہی میں شمار ہوں گے۔ بہنوں اور والدہ مرحومہ سمیت تمام ورثاء کا حصہ اسی مجموعی رقم میں سے نکالا جائے گا، نہ کہ صرف اصل 100 روپے میں سے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بھائیوں نے یہ کام والد کی زندگی میں ان کی اجازت اور بطور ذمہ داری شروع کیا تھا، اور بعد میں بھی یہ ترکہ مشترکہ ہی رہا؛ لہٰذا اس میں ہونے والی تمام بڑھوتری بھی اصل ترکہ کا حصہ تصور ہوگی۔
جواب 3
گاؤں کا وہ مکان جو والد مرحوم نے چھوڑا تھا، وہ شرعاً تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت یعنی ترکہ تھا۔ اس صورت میں کسی ایک وارث کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ باقی ورثاء کی رضامندی کے بغیر اسے فروخت کر دے۔ تاہم چونکہ مکان فروخت ہو چکا ہے، اس لیے اب اس کا حل یہ ہے کہ فروخت سے حاصل ہونے والی پوری رقم (یعنی 37 لاکھ روپے) کو ترکہ میں شامل کیا جائے، اور اسے تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم کیا جائے۔
جواب 4
جو بیٹھک (مہمان خانہ) آپ کے والد نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر تعمیر کیا تھا اور بعد میں تمام شرکاء یعنی بھائیوں کی باہمی رضامندی اور اتفاقِ رائے سے چچا کے بیٹوں کو باقاعدہ ہبہ (گفٹ) کر دیا تھا، اور انہوں نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تو شرعاً وہ ہبہ مکمل اور نافذ ہو چکا۔ اس وجہ سے وہ بیٹھک اب والد مرحوم کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگی، اور بہنوں سمیت کسی بھی وارث کا اس میں کوئی حق نہیں بنتا۔
جواب 5
اگر بہنیں خود اپنی خوشی اور رضامندی سے اس بات پر متفق ہوں کہ ان کے حصے کی رقم میں سے کچھ آج اور باقی کسی متعینہ مدت کے بعد ادا کی جائے، تو یہ شرعاً جائز ہے۔ بنیادی شرط صرف یہ ہے کہ یہ معاملہ کسی دباؤ یا جبر کے بغیر ان کی مکمل رضامندی اور باہمی اتفاق سے طے پائے۔
جواب 6
سب سے پہلے ہر وارث کو اس کا مکمل شرعی حصہ ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد جو وارث چاہے کہ اپنے ذاتی حصے میں سے، یا اس کا کچھ حصہ، اپنے والدین کے ایصالِ ثواب کی نیت سے کسی فلاحی ادارے کو بطور صدقہ جاریہ دے دے، تو یہ اس کا ذاتی اختیار ہے اور شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ اب اس کی اپنی ملکیت ہے۔
البتہ اگر تقسیمِ وراثت سے پہلے، یعنی مشترکہ ترکہ میں سے کوئی رقم بطور صدقہ نکالنا مقصود ہو، تو اس کے لیے تمام ورثاء کی رضامندی ضروری ہے، کیونکہ تقسیم سے پہلے وہ رقم مشترکہ ملکیت ہوتی ہے اور کسی ایک وارث کو دوسروں کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کا حق نہیں۔
جواب 7
اگر میراث میں ملنے والی رقم سے بہنوں کے پاس اتنی استطاعت پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے اور اپنے محرم، دونوں کے حج کے اخراجات باآسانی برداشت کر سکیں، تو ان پر حج فرض ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں وہ اپنے والد، بیٹے، بھائی، یا کسی بھی دوسرے محرم رشتہ دار کو، جسے وہ خود مناسب اور موزوں سمجھیں، اپنے ساتھ حج پر لے جا سکتی ہیں۔ شریعت میں اس کے لیے کسی ایک خاص محرم کا تعین نہیں کیا گیا بلکہ عورت کو اپنے کسی بھی محرم کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
