زمره
فتوی نمبر
سوال
(1) ”غبن فاحش“ سے کیا مراد ہے؟
(2) ایک دوکاندار کوئی چیز ایک لاکھ بیس ہزار پر فروخت کرتا ہے اور دوسرا وہی چیز (اسی کوالٹی اور مقدار میں) ایک لاکھ ساٹھ ہزار کی دیتا ہے تو کیا دوسرے شخص کا اس طرح بیچنا ”غبن فاحش“ کے زمرے میں آئے گا؟
جواب
(1)”غبن فاحش“ سے مراد یہ کہ کسی سامان یا خدمت (سروس) کی مارکیٹ میں مروجہ بلند ترین شرح سے کہیں زیادہ قیمت وصول کرلی جائے۔ مثلاً ایک چیز مارکیٹ میں عام طور پر 50 تا 60 روپے کے درمیان فروخت ہوتی ہے اور 70 روپے اس کی آخری حد ہے، مگر کوئی دوکاندار خریدار کی لاعلمی یا مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 60 والی چیز کو اس سے اوپر کے دام میں مثلاً 100 یا 200 میں بیچے تو یہ عمل ”غبن فاحش“ کہلائے گا، اس قدر منافع خوری شرعاً مکروہ ہے۔
(2) اگر اس چیز کی قیمت مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہے تو اس کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار میں بیچنا ”غبن فاحش“ ہے۔
