زمره
فتوی نمبر
سوال
حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں اترنے سے پہلے جس جنت میں رکھا گیا وہ جنتِ ارضی تھی یا سماوی؟
جواب
اس مسئلے میں علماء کے چار اقوال ہیں:
پہلا قول (جمہور علماء و مفسرین):وہ”جنت الماوی“(سماوی جنت) تھی جو آخرت میں مومنوں کے لیے موعود ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں”الجنۃ“الف لام کے ساتھ آیا ہے جو اسی مشہور جنت کی طرف اشارہ ہے، نیز قرآن حکیم میں”اِهْبِطُوْا“(اترو) کا لفظ بلندی سے پستی کی طرف آنے پر دلالت کرتا ہے۔ اور حدیثِ مسلم میں بھی قیامت کے دن حضرت آدم علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ ”کیا تمہارے باپ کی خطا ہی نے تمہیں جنت سے نہیں نکالا تھا“ — اسی جنت کی طرف اشارہ ہے۔
دوسرا قول:وہ”جنتِ ارضی“تھی کیونکہ وہاں کھانا پینا، نیند، ابلیس کا آنا جانا اور اخراج جیسے امور پائے جاتے تھے جو ”جنت الماوی“ میں ممکن نہیں۔
تیسرا قول:وہ ان دونوں کے علاوہ ایک”خصوصی جنت“تھی جو صرف اسی مقصد کے لیے بنائی گئی تھی۔
چوتھا قول:اس معاملے میں توقف اور سکوت اختیار کرنا چاہیے اور اسے اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دینا چاہیے۔
(ماخوذ از:قصص القرآن،مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ،حبیب پبلیکیشنز،لاہور،40/1)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
