چشمے کے پانی سے سیراب شدہ زمین پر عشر کا حکم

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0431
سوال

(1) ایک ایسی زمین جسے چشمے کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو اور اس پانی پر کوئی خرچ نہ آتا ہو (یعنی پانی مفت ہو) تو کیا ایسی زمین کو بارانی زمین (جو بارش یا قدرتی پانی سے سیراب ہوتی ہو) کے حکم میں شمار کیا جائے گا؟

(2) مذکورہ بالا صفت والی زمین کی پیداوار پر دسواں حصہ (عُشر) دینا ہوگا؟ یا بیسواں حصہ (نصف عشر) دینا ہوگا؟

(3) زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے کٹائی، صفائی، ہمواری یا دیگر ابتدائی تیاری پر جو اخراجات آتے ہیں، کیا انہیں عشر کی ادائیگی سے منہا کیا جائے گا؟

جواب

(1،2) چشمے کے پانی سے سیراب شدہ زمین پر اگر خرچ نہ آتا ہو تو اس پر بارانی زمین کی طرح کل پیداوار کا دسواں حصہ (عشر) دینا لازم ہے۔

(3) عشر کا تعلق حاصل شدہ زرعی پیداوار سے ہے، اخراجات سے نہیں، لہذا اخراجات کو پیداوار سے منہا نہیں کیا جائے گا، بلکہ کل پیداوار پر عشر کی ادائیگی لازم ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

مقام
ڈیرہ اسماعیل خان
تاریخ اور وقت
جون 27, 2026 @ 05:26صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں