منحرف عقائد کی حیثیت کیا ہے؟​

زمره
ایمان و عقائد
فتوی نمبر
0441
سوال

منحرف عقائد کی حیثیت کیا ہے؟

جواب

اصولی بات یہ سمجھنی چاہیے کہ کسی فرد یا گروہ کے مبینہ عقائد کے اعتبار سے لوگوں کی درج ذیل تین صورتیں ہیں:

پہلی صورت : صریح کفریہ عقائد رکھنے والے
​جیسے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما پر تہمت لگانے والے، تحریفِ قرآن یا حضرت جبرائیل سے رسول اللہ ﷺ تک وحی پہنچانے میں غلطی کے قائل یا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی الوہیت یا نبوت کا عقیدہ رکھنے والے یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرنے والے قرآن حکیم کی نصوص قطعیہ کے منکر ہونے کے سبب کافر ہیں۔

دوسری صورت : غیر کفریہ باطل عقائد رکھنے والے
​جیسے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل اور حضرات خلفاء راشدین سے افضل قرار دینے والے لوگ درست راہ سے ہٹے ہوئے ہیں، مگر کافر نہیں۔

​تیسری صورت: مشتبہ (غیر واضح) عقائد رکھنے والے
​ایسے لوگوں پر تحقیق کے بغیر کفر یا اسلام کا قطعی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔

یہ بات بھی ضرور پیش نظر رہنی چاہیے کہ اگر کسی شخص یا گروہ کے واضح کفریہ عقائد معلوم ہوجائیں، تب بھی کسی دوسرے فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر فتنہ و فساد یا لڑائی جھگڑے کا راستہ اختیار کرے۔ ایسے معاملات میں اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ حکمت، نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ حق بات واضح کریں اور اصلاح کی کوشش کریں، خصوصاً ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ جو تحقیق کے بغیر محض ماحول یا دوسروں کی دیکھا دیکھی بعض منحرف عقائد اختیار کر لیتے ہیں، دل سوزی اور تسلسل کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت پر توجہ دینا ضروری ہے۔

مقام
پشاور
تاریخ اور وقت
جون 25, 2026 @ 02:06شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں