خواتین کا عوامی حلقوں میں دینی دعوت کا کام کرنے کا حکم

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0422
سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا خواتین عوام میں جاکر غیر محرم لوگوں کے سامنے شرعی پردے میں رہ کر دینی دعوت کا کام کر سکتی ہیں؟

جواب

دینی دعوت کا کام فرض کفایہ ہے۔ جب معاشرے کے ایک طبقہ کی جانب سے یہ فریضہ ادا ہورہا ہو تو باقی افراد اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں جب مردوں کی رہنمائی کے لیے مرد علما و مبلغین یہ فریضہ انجام دے رہے ہوں تو مردوں میں خواتین کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کی کوئی ایسی ناگزیر ضرورت باقی نہیں رہتی جو اس کی اجازت کا تقاضہ کرے۔
مزید برآں، خواتین کی مردوں کے درمیان اس قسم کی سرگرموں کے ساتھ (اگرچہ مقاصد اعلیٰ ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی) متعدد معاشرتی خرابیوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ وابستہ ہوتا ہے، اس لیے فقہا نے یہ اصول بیان کیا ہے:
”دَفْعُ الْمَفَاسِدِ مُقَدَّمٌ عَلَى جَلْبِ الْمَصَالِحِ“
​مفاسد کا سدِباب مصالح کے حصول پر مقدم ہے۔
​لہذا جب کسی کام میں بیک وقت کوئی فائدہ (مصلحت) اور نقصان (فساد) دونوں پائے جائیں اور ان دونوں میں ٹکراؤ (تعارض) ہو، تو شریعت کا مزاج اور فقہی اصول یہ ہے کہ نقصان کو ترجیحاً روکا جائے، خواہ اس کے نتیجے میں بعض ظاہری فوائد سے صرفِ نظر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
​البتہ دینی فہم و شعور رکھنے والی خواتین کے لیے اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ کار صرف خواتین تک ہی محدود رکھنا مناسب ہے، کیونکہ یہی طریقہ سدِ مفاسد (خرابیوں کے راستے کو بند کرنے) اور دعوت کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب​

مقام
نوشہرہ
تاریخ اور وقت
جون 22, 2026 @ 06:39صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں