زمره
فتوی نمبر
سوال
بلوچستان کے بعض علاقوں میں ایک متشدد گروہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ دیگر صوبوں سے آنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے افراد ہمارے حقوق پر قابض ہو رہے ہیں۔ اس نظریے کی آڑ میں دیگر صوبوں سے آنے والے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر لسانی اختلاف کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے معاشی اور سیاسی حقوق غصب کرتے ہیں، اس لیے ہم انہیں اپنی سرزمین پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس پسِ منظر میں درج ذیل سوال کا شرعی جواب مطلوب ہے:
کیا دینِ اسلام میں حقوق کی مبینہ محرومی یا غصب کے سبب ”غاصبین“ کے خلاف لسانی منافرت پھیلانا اور عدم تعاون پر دوسرے مسلمانوں کو محض زبان یا نسل کی بنیاد پر حقیر و ذلیل قرار دینا اور ان کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کرنا کسی بھی شرعی اعتبار سے جائز ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس فعل کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
اقوام کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم حکومتِ وقت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میں ناکام ہوتی ہے یا اپنی کسی انتظامی مصلحت کے پیشِ نظر ایک خطے کو دوسرے پر فوقیت دیتی ہے تو اس پالیسی سازی میں وہاں کے بے گناہ شہریوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور نہ ہی ان کا براہِ راست کوئی قصور یا کردار ہوتا ہے۔ عام شہریوں کے پاس نہ تو ریاستی پالیسیوں کا اختیار ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی دوسرے صوبے کے حقوق چھیننے کی طاقت رکھتے ہیں، اس لیے جذبات میں آکر ان کا ناحق قتل حقوق کے حصول کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں بن سکتا، بلکہ اس کا مسلمہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے دنیا کی کئی اقوام نے اپنے غصب کردہ حقوق واپس لیے۔ اس کے برعکس حکومتی ناکامیوں یا غیر منصفانہ پالیسیوں کا غصہ اپنے ہی بے گناہ ہم وطن شہریوں پر نکالنا اور انہیں وحشیانہ طور پر قتل کی بھینٹ چڑہانا، انسانیت کے خلاف سنگین جرم اور شریعت کی نظر میں قطعی حرام ہے، جو کسی بھی طور پر اسلامی شریعت میں نیز کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔
انسانیت میں قوموں اور قبیلوں کی تقسیم کا مقصد صرف باہمی تعارف اور سماجی نظم و ضبط قائم کرنا ہے، نہ کہ تفاخر، تعصب یا ایک دوسرے پر برتری جتانا۔ اس لیے دینی تعلیمات کی رو سے فضیلت کا حقیقی معیار نسب، نسل یا قومیت نہیں بلکہ تقویٰ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی اطاعت کے تحت زندگی کے ہر ہر عمل کو انجام دینا۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (49-الحجرات: 13)
(اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو۔ بے شک بہت زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے، جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔)
اسی طرح کسی مسلمان کو اس کی زبان، نسل یا قومیت کی بنیاد پر حقیر سمجھنا، اس کی توہین کرنا یا ایسی گفتگو کرنا جس سے اس کی دل آزاری ہو، شرعاً ناجائز اور جاہلیت کی مذموم عادات میں سے ہے، جن سے ہر مسلمان کو اجتناب کرنا لازم ہے۔
