والد، بیٹے اور تین بیٹیوں میں تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0424
سوال

ایک شخص فوت ہوا اس کے ترکہ میں ایک گھر اور کچھ نقد رقم ہے۔ ورثا میں اس شخص کا والد تین بیٹیاں، ایک بیٹا، دو بھائی اور ایک بہن حیات ہے۔ ترکہ کی تقسیم کے حوالے شرعی رہنمائی فرمادیں! 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کا خرچہ، مرحوم پر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد) باقی منقولہ وغیر منقولہ ترکہ (بشمول گھر) کو 6 حصوں میں تقسیم کرکے 1 حصہ (٪16.67) والد کو، 2 حصے (٪33.33) بیٹے کو اور 1،1 حصہ (٪16.67) تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو از روئے شرع ملے گا، جبکہ مرحوم کے بہن بھائی ترکہ سے محروم ہوں گے۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مقام
واہ کینٹ
تاریخ اور وقت
جون 20, 2026 @ 10:34صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں