جینیاتی بیماریوں کے سبب کزن میرج کا حکم

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0437
سوال

آج کی میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ کزن میرج سے بچوں میں جینیاتی بیماریوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی اسلامی اور سائنسی توجیہ کیا ہے؟

جواب

اللہ تعالیٰ انسانیت کا خالق و مالک ہے، اس نے جن رشتوں میں نکاح کو حلال قرار دیا اور جن سے نکاح کو ممنوع ٹھہرایا، یقیناً اس کے ہر حکم میں حکمت و مصلحت مضمِر ہے۔ چنانچہ کزن میرج شریعتِ مطہرہ کی رو سے جائز ہے اور جس رشتے کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہو اسے محض انسانی آراء یا سائنسی احتمالات کی بنیاد پر حرام قرار دینا کسی کے اختیار میں نہیں۔
البتہ جب معتبر میڈیکل رپورٹس اور ماہر دیانت دار ڈاکٹروں کی رائے سے یہ یقین یا کم از کم غالب گمان ہوجائے کہ مستقبل کے دلہا اور دلہن کو کزن میرج سے جینیاتی (موروثی) بیماریوں کا قوی خطرہ ہے، تو دفع مَضرت (نقصان سے حفاظت) کے پیشِ نظر احتیاطاً ایسے رشتے سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اسے عام قاعدہ نہیں بنایا جاسکتا۔​

مقام
گوجرانوالہ
تاریخ اور وقت
جون 20, 2026 @ 01:49صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں