زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0426
سوال
معمولی بات پر بحث کے دوران جب نہ تو موضوع طلاق کا تھا اور نہ ہی اس وقت میرا ارادہ بیوی کو طلاق دینے کا تھا۔ مگر بیوی نے گرما گرمی (غصہ) میں بول دیا آپ کو جو فیصلہ کرنا ہے کریں اور جواباً غصے کی حالت میں، میں نے بول دیا:
”تم میری طرف سے فارغ ہو“۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان الفاظ کے بولنے سے جب کہ اس وقت نہ مذاکرہ طلاق تھا اور نہ ہی پہلے سے میرا طلاق کا ارادہ تھا تو کیا ایسی صورت میں میری بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے؟
جواب
غصہ کی حالت میں مذکورہ الفاظ (تم میری طرف سے فارغ ہو) کہنے سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا، اب دونوں کا اکھٹے رہنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو مہرِ جدید کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی نکاحِ جدید کرنا لازم ہوگا۔
مقام
گجر خان
تاریخ اور وقت
جون 17, 2026 @ 06:53صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
