زمره
فتوی نمبر
سوال
ایک صاحب نے آٹا پیسنے والی چکی کرائے پر دی اور کرائے کے ساتھ ماہانہ ایک من آٹا بھی طے پایا تو آجر کے لیے کرائے کے ساتھ ایک من آٹا لینا جائز ہے؟
جواب
آجر اور مستاجر کے درمیان اجرت کا تعین باہمی رضامندی سے ہونا ضروری ہے اور اجرت کا معلوم و متعین ہونا شرطِ صحت ہے تاکہ کسی قسم کا نزاع یا ابہام باقی نہ رہے۔ اگر دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے اجرت دو حصوں میں مقرر کی ہو، مثلاً ماہانہ نقد رقم اور ایک من آٹا، تو یہ معاملہ درست اور جائز ہے۔
جہاں اجرت میں آٹا شامل ہو وہاں اس کی مکمل تفصیل طے کرنا ضروری ہے، یعنی اس کی جنس، نوع، صفت، کوالٹی، مقدار، وزن اور پیمانہ اس قدر واضح ہو کہ کسی قسم کا ابہام یا جہالت باقی نہ رہے۔ اگر مقررہ وقت پر آٹے کی فراہمی ممکن نہ ہو تو مستاجر پر آٹے کی وہ قیمت لازم ہوگی جو یومِ عقد کو مقرر تھی۔ غرض مستاجر پر صرف وہی اجرت لازم ہوگی جو ابتداءً واضح طور پر طے کی گئی ہو، خواہ وہ صرف نقد رقم ہو یا رقم کے ساتھ متعین مقدار میں آٹا، تاہم شرط یہ ہے کہ طے شدہ اجرت علاقے کے معمول کے کرائے سے زائد نہ ہو، ورنہ زائد مقدار ظلم تصور ہوگی کیونکہ یہ مستاجر کی مجبوری سے ناحق فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔ جوکہ شریعت کی نظر میں ناجائز ہے۔
