بیوہ، دو بیٹوں اور تین بیٹیوں میں تقسیم ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0411
سوال

ایک بیوہ کے شوہر اپنی کچھ جائیداد (روپیہ پیسہ، سامان اور کاروبار) ہندوستان میں چھوڑ گئے، جس کی وہ وصیت کیے بغیر انتقال کر گئے۔ اب خاتون کو وہاں جاکر وہ سب کچھ اپنے نام منتقل کروانا ہوگا۔ شوہر کے ترکہ کی تقسیم ان کے ورثا (بیوہ، دو بیٹوں اور تین بیٹیوں) کے درمیان کس طرح ہوگی؟

جواب

سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ) میں سے بالترتیب درجِ ذیل کو منہا کیا جائے گا۔
1-مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ،
2-مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی،
3-اگر مرحوم نے احکامِ شریعت کے مطابق کوئی جائز مالی وصیت کی ہو تو زیادہ سے زیادہ ایک تہائی 1/3 مال میں سے اس کی ادائیگی۔
ان امور کے بعد کل بقیہ متروکہ جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ ) کو 8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے بیوہ اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 1،1 حصہ (%12.5) اور دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو 2،2 حصے (%25) از روئے شرع ملیں گے۔

مقام
کراچی
تاریخ اور وقت
جون 12, 2026 @ 11:54شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں