زمره
فتوی نمبر
سوال
حالتِ احرام میں سر پر ہاتھ والی چھتری سے سایہ کرنا کیسا ہے؟ کیا اس چھتری کا استعمال سر کو ڈھانپنے کے حکم میں نہیں ہوگا؟
جواب
دھوپ اور گرمی سے بچنے کے لیے ہاتھ والی چھتری کے ذریعے سر پر سایہ کرنا سر کو ڈھانپنے کے حکم میں داخل نہیں، کیوں کہ یہ سر پر سایہ کرنا ہے نہ کہ سر کو ڈھانپنا، اس لیے حالت احرام میں اس کا استعمال جائز ہے۔
حدیث مبارکہ کی روشنی میں سر پر سایہ کرنا جائز ہے، چنانچہ مسلم شریف کی حدیث ملاحظہ ہو:
عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : سَمِعْتُهَا تَقُولُ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَمَعَهُ بِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ (1)
حضرت یحییٰ بن حصین رضی اللہ عنہ نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (یحییٰ بن حصین نے) کہا: میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں: حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں حج کیا، میں نے آپ ﷺ کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے، حضرت بلال اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک آگے سے (مہار پکڑ کر) آپ ﷺ کی سواری کو ہانک رہے تھے اور دوسرے دھوپ سے (بچاؤ کے لیے) اپنا کپڑا رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک پر تانے ہوئے تھا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
(1) صحیح مسلم، (بیروت، دار احیاء التراث العربی)، کتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة يوم النحر راكبا، 944/2، الرقم: 1298)
