زمره
فتوی نمبر
سوال
میرے والد صاحب نے اپنی پنشن کی رقم بینک میں جمع کروائی تھی اور ان کی وفات کے بعد کاغذی کارروائی میں تاخیر کی وجہ سے گزشتہ دو تین سال کا منافع نہیں مل سکا، جو اب تقریباً 10 لاکھ روپے کی صورت میں ملنے کا امکان ہے۔ زندگی میں اس سرمایہ پر ملنے والا ماہانہ منافع بھی وصول کیا جاتا رہا جو تقریباً 25 سے 30 ہزار روپے بنتا تھا۔ اب ورثاء میں اختلاف ہے کہ آیا یہ جمع شدہ منافع استعمال کیا جا سکتا ہے یا اصل رقم لے کر منافع صدقہ کر دیا جائے؟ اس صورت میں اصل رقم پر ملنے والے منافع کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
بینک میں رقم جمع کرانا شرعی اعتبار سے اس ادارے کو قرض دینے کے حکم میں ہے اور اس پر ملنے والا متعین اضافہ سود (ربا) ہے، جس سے بچنے کا قرآنِ کریم میں حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(1)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم ایمان والے ہو۔
لہٰذا والد مرحوم کی جمع کردہ اصل رقم ترکہ کا حصہ ہے اور ورثاء اپنے شرعی حصص کے مطابق اس کے مالک ہوں گے۔ البتہ گزشتہ دو تین سال کا جو بھی منافع وصول ہوگا، وہ سود ہے، اس لیے اسے استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ سودی رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر فقراء و مساکین کو دے کراس سے نجات حاصل کی جائے-
فقط واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
(1) 2-البقرۃ: 278
