مشرک لڑکی سے نکاح کا حکم

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0423
سوال

ایک مسلمان والدین کے بیٹے نے کچھ سال پہلے ایک مشرک لڑکی سے شادی کرلی اور تاحال اسلام قبول کیے بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہا ہے ۔ اس کے اس عمل کے سبب والدین کئی سال اس سے قطع تعلق کیے رہے، مگر کچھ عرصے سے اس کی محبت میں اس سے تھوڑا بہت ملنا شروع کر چکے ہیں، مگر اس کی بیوی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ:
(1) کیا والدین کو اپنے اس بیٹے سے مکمل قطع تعلق کرلینا چاہیے؟
(2) کیا اس عورت کو اسلام کی دعوت دینے کے بعد نکاح کرنا درست ہوگا؟
(3) کیا ایسا بیٹا والدین کے انتقال کے بعد مال وراثت میں، اپنے حصے کا اتنا ہی حق دار ہے جتنا دیگر بیٹے حق دار ہیں؟

جواب

(1) والدین کو چاہیے کہ مکمل طور پر قطع تعلق کے بجائے ہر ممکن حد تک اپنے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ ایک مسلمان مرد کا کسی مشرک عورت سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا اور نکاح منعقد نہ ہونے کے سبب ان کا باہمی تعلق، حرام عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کی صریح ممانعت قرآن حکیم میں موجود ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

”وَلَا تَنْکِحُوْا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ“(1)
اور مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں، ان سے نکاح نہ کرو۔

شوہر پر لازم ہے کہ وہ فی الفور اس عورت سے الگ ہوجائے، ماضی کے گناہ پر اللہ تبارَک و تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ و استغفار کرے۔
(2) اس مشرک خاتون کے سامنے اسلام کی حقانیت پیش کی جائے ؛ اگر وہ کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتی ہے، تو اس سے شرعی رشتہ ازدواج، قائم کرنا گناہ و معصیت سے بچنے کا موزوں راستہ ہے۔
(3) بیٹا اپنے اس فعل کے سبب گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے والدین کی میراث میں شرعًا اتنا ہی مستحق قرار پائے گا، جتنا دوسرے بیٹے ہیں۔

فقط واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


(1) 2- البقرہ :221

مقام
کراچی
تاریخ اور وقت
جون 10, 2026 @ 06:30صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں