رب الارض اور مزارع کا نصف نصف اخراجات پر مزارعت کا حکم

زمره
مزارعت و مساقاۃ
فتوی نمبر
0449
سوال

مزارعت میں فریقین یعنی مزارع اور رب الارض نے عقد کرلیا کہ کاشت کاری پر آنے والے اخراجات دونوں نصف نصف برداشت کریں گے اور پیدوار بھی نصف نصف تقسیم کی جائے گی۔ محنت صرف مزارع کے ذمہ ہے۔ کیا یہ صورت مزارعت میں جائز ہے؟

جواب

مزارعت کی مذکورہ صورت کہ کاشت کے تمام اخراجات مزارع اور ربُّ الارض دونوں نصف نصف برداشت کریں، شرعاً جائز نہیں ہے؛ اگرچہ پیداوار دونوں کے درمیان نصف نصف یا کسی بھی متعین فیصد کے مطابق تقسیم کرنے پر اتفاق ہو۔

مزارعت کی جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
1۔ زمین اور بیج ایک فریق کے ہوں، جبکہ بیل (یا ٹریکٹر) اور محنت دوسرے فریق کی ہو
2۔ زمین ایک فریق کی ہو، جبکہ بیج، بیل (یا ٹریکٹر) اور محنت دوسرے فریق کی ہو
3۔ زمین، بیل (یا ٹریکٹر) اور بیج ایک فریق کے ہوں، جبکہ صرف محنت دوسرے فریق کی ہو۔

ان کے علاوہ اگر معاملہ کسی اور صورت پر طے کیا جائے تو مزارعت فاسد شمار ہوگی۔

مقام
حسن ابدال
تاریخ اور وقت
جون 10, 2026 @ 05:49صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں