زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0406
سوال
ایک خاتون فوت ہوئیں، اس کے ورثا میں دو بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ہے۔ والدین اور خاوند ان کی موت سے قبل فوت ہوگئے تھے اور بہن بھائی بھی نہیں ہیں۔ اس نے اپنے ترکہ میں تین لاکھ پچہتر ہزار (375,000) روپے چھوڑے ہیں۔ اس رقم کی تقسیم کے حوالے سے شرعاً رہنمائی فرمادیں۔
جواب
صورت مسئولہ میں مرحومہ کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات، ان پر کسی کا قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر انہوں نے اپنی حیات میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے) کے بعد مرحومہ کا کل ترکہ اگر صرف تین لاکھ پچھتر ہزار (375,000) روپے ہے تو مرحومہ کے دونوں بیٹوں کو دو دو حصے (یعنی 375,000 میں سے ہر ایک کو 150,000) اور بیٹی کو ایک حصہ (یعنی 75,000) از روئے شرع ملے گا۔
فقط واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
مقام
گوجرانولہ
تاریخ اور وقت
جون 08, 2026 @ 12:46شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
