زمره
فتوی نمبر
سوال
شریعت کی روشنی میں محنت کرنے والے اور سرمایہ لگانے والے دو شراکت داروں میں نفع کی تقسیم کیسے ہوگی؟
جواب
اگر دو افراد کاروبار کرنا چاہیں اور ان میں سے ایک سرمایہ فراہم کرے جبکہ دوسرا اپنی محنت، مہارت اور وقت لگا کر کاروبار چلائے، تو اس معاملے کو فقہی اصطلاح میں "مضاربت" کہا جاتا ہے جو بنیادی طور پر عقودِ امانت میں سے ہے۔ امدادِ باہمی کے مقاصد کے حصول کے لیے یہ تجارت کا ایک مؤثر اور موزوں طریقہ ہے۔
شریعتِ مطہرہ نے مضاربت میں نفع کی کوئی مخصوص رقم مقرر نہیں کی، بلکہ ربّ المال (سرمایہ فراہم کرنے والا) اور مضارب (کاروبار کرنے والا) باہمی رضامندی سے نفع کا کوئی بھی فیصد طے کر سکتے ہیں، جیسے %50، %40 یا %30 وغیرہ۔
البتہ اگر نفع میں سے کسی ایک فریق کے لیے پہلے سے کوئی متعین رقم مقرر کردی جائے، مثلاً ہر ماہ 50,000 روپے یا سالانہ 600,000 روپے، تو ایسی شرط شرعاً درست نہیں۔ اس صورت میں مضاربت فاسد ہو جاتی ہے، کیونکہ مضاربت میں نفع کا تعین فیصد کے اعتبار سے ہونا ضروری ہے، نہ کہ مقررہ رقم کی صورت میں۔
