شدید غصے اور کانپنے کی حالت میں طلاق اور اس کے بعد اکھٹے رہنے کا حکم

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0418
سوال

1 اکتوبر 2025ء بروز بدھ کو ہم میاں بیوی کے درمیان معمولی گھریلو معاملے پر بحث ہورہی تھی، اس دن میں شدید غصے میں تھا اور غصے کی شدت سے کانپ رہا تھا حالانکہ میں آج تک ایسی کیفیت میں مبتلا نہیں ہوا۔ میں پہلے ہی نیند کی کمی اور والد کی بیماری کی وجہ سے بہت ڈپریشن میں تھا۔ مجھے اپنے الفاظ پر قابو نہیں تھا۔ اسی غصے کی شدت میں، میں نے ایک ہی مجلس میں تکرار کے ساتھ اپنی بیوی سے کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دی، طلاق دیتا ہوں"۔ طلاق کے الفاظ بیوی نے نہیں سنے، لیکن غصے کی شدت میں ان الفاظ کا تکرار کرتا رہا۔ اب میں قسم کھاتا ہوں کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی اور مجھے بالکل طلاق کے مسئلے کا علم نہیں تھا اور نہ نکاح توڑنے کا ارادہ تھا۔
یہ الفاظ صرف غصے میں بے اختیار منہ سے نکل گئے۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد میں خود بھی بہت پریشان اور شرمندہ ہوں۔
مفتی صاحب! قرآن و سنت اور فقہ حنفی/اہلِ سنت والجماعت کی روشنی میں بتائیں، اب مجھے شرعاً کیا سمجھنا چاہیے؟ کیا میرا نکاح قائم ہے؟ براہ کرم تحریری فتویٰ عنایت فرمادیں!

جواب

عام حالات میں انتہائی غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق شرعی طور پر مؤثر تصور ہوتی ہے ، سوائے اس کے کہ یہ بات طبی طور پر ثابت ہو جائے کہ شوہر کسی ایسی ذہنی یا اعصابی بیماری کا شکار ہوگیا تھا جس میں مریض کو اچانک انتہائی شدید غصے کے دورے پڑتے ہیں، جو وقتی طور پر اس کی عقل کو مغلوب اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں تو اس سے حکم تبدیل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اگر طلاق دیتے وقت شوہر کی حالت اس قدر متغیر ہوگئی تھی کہ اس کو غصے کے دورے پڑے تھے، جس کی وجہ سے وہ کانپ رہا تھا، اس کے ہوش و حواس اور اچھے برے کی تمیز ختم ہوچکی تھی، تو ایسی صورت میں دی گئی طلاق شرعاً واقع نہیں ہوئی۔ لیکن اگر حالت اس کے برعکس تھی تو صورت مسئولہ میں شوہر کی جانب سے اپنی بیوی کو مذکورہ بالا الفاظ: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دی، طلاق دیتا ہوں"، کہنے سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں، کیوں کہ یہ الفاظ طلاق کے معاملے میں صریح (واضح) ہیں اور صریح الفاظ سے دی ہوئی طلاق میں نیت معتبر نہیں ہوتی اور نہ ہی غصہ وقوعِ طلاق کے لیے مانع (رکاوٹ) ہے، اس لیے ان الفاظ کے ادا کرنے سے عورت پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ بعد ازاں دونوں کا ایک ساتھ رہنا ناجائز اور حرام تھا، اس حرام فعل کے ارتکاب پر دونوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ تائب ہونا چاہیے اور دونوں پر فی الفور علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے۔
عورت کی عدت کا حکم
پہلی صورت (اگر عورت حاملہ نہ ہو)
​چوں کہ طلاق کا یہ واقعہ 1 اکتوبر 2025ء کو پیش آیا تھا تب سے لے کر اب تک (موجودہ تاریخ تک) تین ماہواریاں یقیناً مکمل ہوچکی ہیں، اس لیے غیر حاملہ ہونے کی صورت میں عورت کی عدت مکمل ہوچکی ہے۔ اب وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔
دوسری صورت (اگر عورت حاملہ ہو)
(الف) اگر طلاق کے وقت عورت حاملہ تھی تو شرعاً اس کی عدت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش ہے)۔ چنانچہ اگر ابھی تک حمل برقرار ہے تو عدت بھی باقی ہے (اور اس دوران دوسرا نکاح حرام ہے)۔
(ب) اگر وضعِ حمل ہوچکا ہے تو عورت کی عدت بھی مکمل ہوچکی ہے، لہذا وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح بھی کر سکتی ہے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب

مقام
رحیم یار خان
تاریخ اور وقت
جون 05, 2026 @ 04:13شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں