زمره
فتوی نمبر
سوال
زید ایک تاجر ہے اور بادام کے مال کا مالک ہے۔ اس نے اپنے منشی عمر سے کہا کہ بادام فی کلو تین ہزار روپے کے حساب سے فروخت کرنا، البتہ اگر کسی کمیشن کار کے ذریعے سودا طے ہو جائے تو فی کلو بیس روپے کمیشن کار کو بطور کمیشن دے دینا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عمر بعض اوقات مال خود ہی فروخت کرتا ہے، لیکن زید سے یہ کہتا ہے کہ یہ سودا کمیشن کار کے ذریعے ہوا ہے اور اس طرح فی کلو بیس روپے کمیشن کے نام پر خود لے لیتا ہے یا کبھی عمر مالک کی اجازت کے بغیر گاہک کو فی کلو بیس روپے رعایت بھی دے دیتا ہے تاکہ مال جلد فروخت ہو جائے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
(1) کیا منشی عمر کے لیے غلط بیانی کرکے کمیشن کی رقم خود لینا شرعاً جائز ہے؟
(2) کیا رب المال کی اجازت کے بغیر منشی کے لیے گاہک کو رعایت دینا جائز ہے؟
جواب
(1) منشی عمر کے لیے جھوٹ بول کر کمیشن کی رقم خود لینا اور اسے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔
(2) رب المال کی اجازت کے بغیر گاہک کو رعایت دینا بھی درست نہیں ہے بلکہ اس نے واضح طور پر جس قیمت پر مال بیچنے کی ہدایت کی ہو اسی پر مال بیچنا ضروری ہے الا یہ کہ مالک کی ہدایت کے مطابق مال بیچنا ”غبن فاحش“ (مارکیٹ میں مذکورہ چیز کی بلند سطح سے بھی زیادہ قیمت وصول کرنے) کے زمرے میں آتا ہو تو اس سے بچنا شرعی طور پر ضروری ہے۔
